خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 30

1950ء 30 5 خطبات محمود اپنے اندر ایسا انقلاب پیدا کرو کہ تمہار ا لنا اللہ تعالی کی غیرت کبھی برداشت نہ کرے (فرمودہ 17 مارچ 1950ء بمقام ناصر آباد سندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے خطبہ جمعہ میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ اُسے اپنے اندر ایسا غیر معمولی تغیر پیدا کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی غیرت اس کا تباہ ہونا برداشت نہ کر سکے۔ حضور نے غزوہ بدر کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس دعا کا ذکر فرمایا جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور کی اور جس کے الفاظ یہ تھے کہ اے میرے رب ! اگر یہ چھوٹی سی جماعت بھی آج ہلاک ہو گئی تو اس دنیا کے پردہ پر تیرا نام لیوا کوئی باقی نہ رہے گا ۔ 1 حضور نے فرمایا: یہ دعا اگر چہ چھوٹی سی تھی مگر ان الفاظ نے خدا تعالیٰ کی غیرت کو ایسا بھڑ کایا کہ تھوڑی دیر میں ہی پانسہ پلٹ گیا اور تین سو تیرہ نا تجربہ کا اور بے سروسامان صحابہ ایک ہزار غیر مسلم اور تربیت یافتہ لشکر پر غالب آ گئے ۔ آپ لوگوں کو بھی صبح و شام سوچنا اور غور کرنا چاہیے کہ کیا آپ کے دلوں میں ایسی تبدیلی پیدا ہو چکی ہے کہ آپ لوگوں کی بربادی سے اللہ تعالیٰ کا کوئی بھی نام لیوا اس دنیا میں باقی نہ رہے؟ اگر یہ حالت ہو تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ تم ہی وہ لوگ ہو جو خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو اس دنیا میں قائم کرنے والے ہو۔ لیکن اگر تمہیں اپنے اندر ایسا تغیر نظر نہ آئے تو تمہیں ہوشیار ہو جانا چاہیے اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تمہارا مرنا ایسا ہی ہو جیسے ایک گدھے یا بکری کا مرنا ہوتا ہے تو تمہارے وجود سے اسلام کا فتح پانا ناممکن ہے ۔