خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 29

1950ء 29 خطبات محمود حاصل کرنے کی کوشش کیا کریں۔ بہر حال لمبے خطبے سنت نہیں ہیں۔ سنت یہی ہے کہ مختصر خطبہ ہو۔ جیسے میں نے بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ اتنا مختصر خطبہ پڑھتے تھے کہ وہ جمعہ کی نماز سے بھی چھوٹا ہوتا تھا۔ بعض دفعہ آپ نے لمبے لمبے وعظ بھی کئے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک آپ نے اتنا لمبا وعظ کیا کہ ظہر سے عشاء کی نماز تک بلکہ اُس کے بعد بھی جاری رہا ۔ 2 پس لمبا وعظ بھی ہوتا تھا یہ نہیں کہ کبھی نہیں ہوتا تھا لیکن عام طور پر مختصر تقریر ہوتی تھی۔ اگر مختصر تقریریں نہ ہوتیں تو اتنی حدیثیں لوگوں کو کس طرح یاد ہوتیں ۔ مثلاً میرے خطبات کو ہی لے لو۔ کیا کوئی شخص انہیں یا د رکھ سکتا ہے؟ یا د رکھنے کے لئے مختصر کلام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختصر خطبہ پڑھا کرتے تھے ورنہ لمبے خطبات کی صورت میں تو حدیثیں بن ہی نہیں سکتی تھیں ۔“ الفضل یکم اپریل 1950ء) 1: صحيح بخارى كتاب الجهاد والسِّير باب لَا يُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ 2: صحیح مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعة باب اخبار النبي صلى الله عليه وسلم في ما يكون الى قيام الساعة میں فجر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک خطاب کا ذکر ہے۔