خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 242

1950ء 242 خطبات محمود ره گزر رہا تھا اُس نے دیکھا کہ ایک شخص گرمی کے موسم میں دھوپ میں بیٹھا تھا۔ اُس نے اُسے کہا میاں ! چھاؤں میں بیٹھ جاؤ۔ اُس نے جواب دیا اگر میں چھاؤں میں بیٹھ جاؤں تو تم مجھے کیا دو گے؟ یہ تو خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے تدبیر کی ہے اور تم کہتے ہو یہ کیا بات ہے۔ پہلے پہل تو میرے منہ سے ایک مشتبہ فقرہ نکلا تھا جس سے بعض لوگوں نے ایک سال کی تحریک سمجھا تھا اور بعض لوگوں نے اسے تین سال کی تحریک سمجھا تھا۔ اگر خدا تعالیٰ جماعت کو چوٹ نہ لگا تا اور یہ مشتبہ فقرہ میرے منہ سے نہ نکلتا تو تم میں سے بعض کو سولہ سال تک جو چندے دینے کی توفیق ملی ہے وہ نہ ملتی اور تم میں سے بہت سے لوگ پیچھے رہ جاتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی پہلے پہل یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص تین ماہ کے بعد ایک دھیلا بطور چندہ نہیں دیتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ۔ 3 پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ہی تھے جنہوں نے وصیت میں اپنی آمد کا کم از کم دسواں حصہ دینے کا اعلان کیا ۔ 4 اگر خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دھیلا فی سہ ماہی کی بجائے ماہوار آمد کا 1/10 نکلواتا تو بہت سے احمدی اس قربانی سے رہ جاتے۔ اس ایک دھیلے فی سہ ماہی پر بھی لوگوں کے خطوط آتے تھے کہ اس سے لوگوں کو ٹھوکر لگے گی ۔ پھر اس دھیلے سے آمد کا 1/10 ہوا۔ پھر تحریک ستمبر میں بیس فیصدی ہوا۔ پھر میں فیصدی ہوا۔ پھر چالیس پچاس فیصدی تک چندہ گیا۔ گو یہ تحریک عارضی تھی لیکن اس میں پچاس فیصدی تک چندہ گیا ہے اور جماعت کا کچھ حصہ ایسا ہے جس نے پچاس فیصدی کچھ عرصہ تک دیا ہے۔ لیکن یہی تحریک کسی وقت ایک دھیلا کے برابر تھی۔ جو شخص اُس زمانہ میں ایک سو روپیہ ماہوار کما تا تھا اُسے یہ کہا گیا تھا کہ تم ایک دھیلا فی سہ ماہی دیا کرو۔ لیکن اب اُسے یہ کہا جاتا ہے کہ تم تمیں روپے فی سہ ماہی دیا کرو۔ تمہیں روپے اور ایک دھیلا میں کتنا فرق ہے؟ تمیں روپے کے 3840 دھیلے بنتے ہیں۔ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چار ہزار گنا چندہ بڑھا دیا تھا۔ پہلے کہا کہ تین ماہ کے بعد ایک دھیلا دیا کرو۔ پھر اسی شخص کو کہا کہ تم اپنی ماہوار آمد کا دس فیصدی دو۔ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چندہ کو چار ہزار گنا زیادہ کر دیا۔ تو تمہارے دل میں وسوسہ نہ پیدا ہوا۔ میں نے تحریک کی میعاد کو دس سال سے اُنیس سال کر دیا تو تمہیں اعتراض سو جھنے لگا۔ میں اگر اس تحریک کو تمہاری ساری عمر کے لئے بھی کر دوں اور عمر ساٹھ ستر سال فرض کی جائے تو اس صورت میں میں اسے صرف چار گنا کروں گا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے چار ہزار گنا کر دیا تھا۔