خطبات محمود (جلد 31) — Page 241
$1950 241 خطبات محمود میں دیکھتا ہوں کہ احمدی ہو جانے کے بعد لوگ یہ سوچتے نہیں رہتے کہ تبلیغ کا کیا مقام ہے۔بہت سے لوگ تو تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھتے ہی نہیں۔وہ اس لئے چندہ دیتے ہیں کہ میری طرف سے چندہ کی تحریک ہوئی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ دروازہ پر سوالی آیا ہے اس کی آواز رائیگاں نہ جائے۔حالانکہ یہاں ان کی زندگی کا سوال ہے، ان کے بیوی بچوں کی زندگی کا سوال ہے، ان کے ایمان کا سوال ہے، ان کے ایمان کے بچاؤ کا سوال ہے۔یہاں یہ سوال نہیں کہ ہم نفلی نیکی کر کے چندہ دیتے ہیں بلکہ اس پر ہماری زندگی کا انحصار ہے۔اگر تم غیر ممالک میں اپنے مراکز نہیں بناؤ گے تو جس طرح چو ہے کو بل میں م بند کر دیا جاتا ہے تم بعض ممالک میں اس سے بھی بُری طرح بند کر دیے جاؤ گے۔اسی طرح ایسے نیک طبیعت لوگ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں مر جائیں گے جن تک تم نے احمدیت کا پیغام نہیں پہنچایا ہوگا اور اس طرح تم خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم بن جاؤ گے۔پس مجھے جماعت کے افراد کی حالت کو دیکھ کر افسوس آتا ہے کہ وہ سستی اور غفلت دکھاتے کیوں ہیں۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی اعلان کیا ہے سال کے بارہ مہینے گزر گئے ہیں لیکن وعدے نصف۔بھی کم وصول ہوئے ہیں۔اب میرے زور دینے کے بعد وصولی کی مقدار کچھ اونچی ہوئی ہے۔یہ طوعی چندہ ہے جس کو تم اپنے اوپر فرض کر لیتے ہو۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا 2 جو تم اقرار کرتے ہو یہ تم مت سمجھو کہ وہ نفلی ہے۔وہ فرض ہے اور قیامت کے دن یہ سوال کیا جائے گا کہ تم نے وہ عہد پورا کیوں نہیں کیا۔پس تمہیں چاہیے تھا کہ تم اپنے عہد کو پورا کرتے۔لیکن انتہائی یاد دہانی کے بعد 51 52 فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں اور 51، 52 فیصدی کے معنے۔ہیں کہ اگلے سال بھی تم وعدہ پورا نہیں کر سکو گے۔اگر یہی حال رہا تو کام بڑھے گا کیسے؟ بہر حال اس امر کو سمجھتے ہوئے کہ جماعت پر عارضی طور پر غنودگی کا وقت آیا ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ صرف خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس پر غنودگی اور نیند کا وقت نہیں آتا اپنے فرض کو ادا کرتے ہوئے میں تحریک جدید کے سترھویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔بعض لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں اور ان میں بعض مبلغ بھی شامل ہیں کہ آپ نے پہلے دستی سال کے چندہ کا اعلان کیا تھا پھر اسے انیس سال کر دیا۔یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تمہارے لئے تدبیر کی تھی کہ تم اپنے ایمانوں کو بڑھاؤ۔یہ اعتراض ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں کوئی شخص کسی جگہ سے