خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 240

1950ء 240 خطبات محمود جائیں گے، افریقن جو سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے، انڈو نیشین جو سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے، امریکن جو سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے۔ اسی طرح باقی ممالک اور جزائر میں جو لوگ سچائی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں وہ احمدیت کو مل جائیں گے۔ اگر سارے ممالک میں احمدی نہیں جائیں گے تو سچائی کو ماننے والے مرجائیں گے اور ہمارا ٹکراؤ اُن سے ہوگا جو سچائی کو نہیں مانیں گے۔ پس دوسرے ممالک میں احمدیت کے مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے تمام انبیاء کے وقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھ لو آپ فلسطین میں پیدا ہوئے لیکن ان کا مذہبی ٹکراؤ کبھی روما میں ہوا ، کبھی مصر میں ہوا، کبھی ایرانی سرحدوں پر ہوا۔ ایک جگہ پر عیسائی مارے گئے تو انہوں نے اپنا مرکز دوسری جگہ بنالیا۔ فلسطین میں اگر وہ تبلیغ نہ کر سکے تو انہوں نے اپنا مرکز اسکندریہ میں بنالیا۔ پھر وہاں ظلم ہوا تو لڑکی کے ساتھ ساتھ کے جزائر میں انہوں نے مرکز بنالیا۔ وہاں ظلم ہوا تو وہ یونان میں چلے گئے ۔ اور وہاں اگر مخالفت ہوئی اور وہ کامیابی کے ساتھ تبلیغ نہ کر سکے تو انہوں نے اپنا مرکز روما میں بنالیا۔ اسی طرح وہ تبلیغ کرتے گئے یہاں تک کہ وہ ساری دنیا پر غالب آگئے ۔ پس اگر ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ ہم نے تمام دنیا پر غالب آنا ہے تو ضروری ہے کہ ہم تمام ممالک میں اپنے مراکز بنائیں تا اگر ایک جگہ پر لوگوں میں جوش پیدا ہو جائے تو ہم دوسری جگہ اپناز ور لگائیں ۔ اور اگر ہم ایک ہی جگہ رہیں گے تو ہم فتنہ کا مقابلہ نہ کر سکیں گے۔ تحریک جدید کے قیام کی یہی دو وجہیں ہیں اور ظاہر ہے کہ ان دونوں وجوہ کو نظر انداز کر کے تمہاری ہستی قائم نہیں رہ سکتی ۔ ابھی تو در حقیقت یہ سوال ہی نہیں کہ ہم تبلیغ کے ان میدانوں میں ترقی حاصل کرنے کی کیا صورت کریں۔ ابھی بہت سے میدان ایسے ہیں جہاں ہمارے مبلغ نہیں پہنچے۔ ابھی تک ایسے ممالک بھی ہیں جہاں احمدیت کی ابتدائی تبلیغ بھی نہیں ہوئی۔ اور یہ ہزاروں ہزار کی تعداد میں ہیں۔ صرف ہیں پچھیں ایسے ممالک ہیں جہاں احمدیت کی تبلیغ ہو رہی ہے۔ اور اگر جزائر کو ملا لیا جائے تو ان میں سے بعض مجموعے ایسے بھی ہیں جو ہزار ہزار جزیرے پر مشتمل ہیں۔ اس طرح تین چار ہزار ایسے ممالک نکل آئیں گے جہاں احمدیت کی تبلیغ نہیں ہوئی۔ تبلیغ صرف بیس پچیس ممالک میں ہو رہی ہے۔