خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 15

خطبات محمود 15 1950ء کہ بیماری کی حالت میں بھی تہجد نہیں چھوڑی۔ آپ حال میں ہی سیالکوٹ میں فوت ہوئے ہیں ۔ آپ مولوی عبدالکریم صاحب کی بڑی بیوی جن کو مولوی صاحب کی وجہ سے ہم مولویانی کہا کرتے تھے بھائی تھے۔ نہایت مخلص اور اچھے نمونہ کے احمدی تھے اور تبلیغ میں اس طرح منہمک رہتے تھے کہ ایسا انہاک اور بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ سکول سے پنشن لی اور ریل اور ڈاکخانہ کے محکموں میں جو کوئی ہندو قادیان آ جاتا اُس کو پکڑ لیتے اور اُسے قرآن کریم پڑھانا شروع کر دیتے۔ میں نے خود ایک ہندو کو دیکھا ہے جس نے ان سے قریباً ہمیں سیپارے ترجمہ کے ساتھ پڑھ لئے تھے وہ دل سے مسلمان تھا۔ اب شاید پارٹیشن (Partition) کے بعد وہ ہندوستان چلا گیا ہو کیونکہ اُس کا نام ہندووانہ ہی تھا لیکن دراصل وہ مسلمان تھا۔ نمازیں پڑھتا تھا۔ اسی طرح روزے بھی رکھتا تھا۔ وہ صرف انہی کے طفیل اور ان کی تبلیغ کے نتیجہ میں مسلمان ہو ا تھا۔ ایک اور دوست نے رقعہ دیا ہے کہ ان کے لڑکے فقیر محمد صاحب جو بہادر حسین کے رہنے والے تھے فوت ہو گئے ہیں ۔ اور چونکہ وہاں کوئی اور احمدی نہیں تھا اس لئے بغیر جنازہ پڑھائے دفن کر دیئے گئے ۔ ان کے والد بابا لطیف الدین صاحب بہادر حسین والے خود صحابی ہیں۔ ان کا بھی جنازہ میں پڑھاؤں گا ۔ 66 الفضل مورخہ 16 فروری 1950ء ) صلى الله :1 صحیح بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي الا الله بابا قول النبي عل لو كنت متخذا خليلا