خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 220

$1950 220 خطبات محمود اعتراض کیا کہ ایک ہزار مہمانوں کے لئے ان کوارٹروں میں بمشکل گنجائش ہوگی تو وہ ثابت کر دیں کہ چھ انچ میں ایک آدمی سوسکتا ہے۔اور جب چھ انچ میں ایک آدمی سوسکتا ہے تو یقیناً اٹھارہ ہزار مہمان ایک حصہ میں آجائیں گے اور اٹھارہ ہزار دوسرے حصہ میں آجائیں گے۔اگر وہ یہ چیز ثابت کر دے تو میری غلطی خود بخود ثابت ہو جائے گی۔میں شرمندہ ہو جاؤں گا اور میں سمجھوں گا کہ میں غلط اندازہ لگاتا رہا۔اگر وہ حساب کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کریں تو انہیں جرات پیدا ہو جائے گی کہ ثابت کر دیں کہ ان کا اندازہ صحیح اور درست تھا۔میں اُسی وقت شرمندہ ہو جاؤں گا اور آئندہ کے لئے محتاط ہو جاؤں گا۔اور اگر وہ حسابی طور پر ثابت نہ کرسکیں کہ ایک آدمی چھ انچ میں سو سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ میرا ہی اندازہ صحیح ہے جو دس فٹ فی آدمی کا اندازہ لگاتا ہوں۔اور میرے نزدیک تمیں ہزار مہمانوں کے ٹھہرانے کے لئے قریباً تین لاکھ ساٹھ ہزار فٹ جگہ کی ضرورت ہو گی۔اور اس عمارت کے بنانے کے لئے کوئی پندرہ لاکھ اینٹ کی ضرورت ہوگی۔وہ بتائیں کہ اتنی اینٹیں وہ کتنے عرصہ میں تیار کر لیں گے؟ کتنے عرصہ میں وہ سوکھیں گی؟ اور کتنے عرصہ میں وہ عمارتیں تیار کریں گے؟ اور جلسہ کس تاریخ کو ہوگا ؟ مگر دوسرے دوست تیار رہیں کہ اگر یہی فیصلہ ہو کہ جلسہ دسمبر میں ہی ہوگا تو ان میں سے ہر شخص تمام کام چھوڑ کر اس کام کو ، کرے اور اسے جلسہ سے قبل ختم کرنے کی کوشش کرے۔نو جوانوں کو میں مختصر ابتا تا ہوں کہ جتنے کام ہوتے ہیں وہ عقل سے ہوتے ہیں۔ہر کام میں عقل استعمال کرنی چاہیے۔جب کوئی بات کرو ا سے عقل، منطق اور حساب پر تو لو۔یہ تینوں گر ایسے ہیں جن پر عمل کرنے سے ہزاروں بیوقوفیاں گھل جاتی ہیں۔جب ایک شخص حساب لگا کر کوئی بات کرتا ہے تو ی شرمندہ نہیں ہوتا۔مثلاً آجکل بعض لوگ فخر میں آ کر کہہ دیتے ہیں کہ فلاں جگہ پر جلسہ ہوا جس میں اتنے لاکھ آدمی اکٹھے ہوئے۔مثلاً امرتسر کی مسجد خیر دین کے متعلق عام طور پر اخبارات میں چھپا کرتا تھا کہ وہاں جلسہ ہوا اور اُس میں پچاس ساٹھ ہزار آدمی جمع ہوئے۔حالانکہ جہاں تک میں نے سنا ہے مسجد خیر دین میں دو تین ہزار آدمی کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔بلکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہماری بڑی مسجد سے بھی چھوٹی ہے۔پس حسابی طور پر اگر کوئی یہ بات سنے گا تو وہ یہی کہے گا کہ خواہ ایک آدمی پر دوسرا بھی بٹھا دیا جائے تب بھی اتنے لوگ وہاں نہیں آسکتے تھے۔یا مثلاً بعض احمدی کہہ دیتے ہیں کہ ہماری جماعت کی تعداد دس لاکھ ہے حالانکہ اگر دس لاکھ کی جماعت ہو تو پھر اتنا کم چندہ کیوں ہو۔موجودہ چندہ کا اندازہ لگایا جائے تو کیا سارے احمدی ایک روپیہ فی کس چندہ دیتے ہیں؟ موجودہ بجٹ