خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 215

1950ء 215 خطبات محمود جلسہ سالانہ کو ملتوی کر دیں کیونکہ وہ ہماری غفلت اور شامت اعمال کی وجہ سے دسمبر میں نہیں ہو سکے گا اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں نہایت ہی خطرناک ہیں اور جماعت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچانے والی ہیں۔ میں حیران ہوں کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوں اور پھر اس سے ایسی حرکات سرزد ہوں۔ مہمانوں کے لئے غلے خریدے جا رہے ہیں، گوشت کے ٹھیکے ہو رہے ہیں، گھی مہیا کیا جا رہا ہے لیکن کھانے والوں کا خیال ہی نہیں کہ وہ رہیں گے کہاں۔ اور اگر وہ رہیں گے نہیں تو وہ کھائیں گے کیوں ۔ پس یہ ایک نہایت ہی خطرناک صورت ہے۔ لیکن ابھی میں یہ اعلان نہیں کرنا چاہتا کہ جلسہ سالانہ دسمبر میں نہیں ہوگا۔ ابھی میں مقامی لوگوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اپنے تمام کام چھوڑ کر مہمانوں کے لئے جگہ مہیا کریں۔ جس کے مہیا کرنے میں صدر انجمن احمد یہ نے مجرمانہ غفلت کا ثبوت دیا ہے۔ پچھلے سال سولہ ہزار روپے کی لاگت سے جو بیر کیں بنائی گئی تھیں ان میں پندرہ سولہ ہزار مہمانوں کو رمہمانوں کی گنجائش تھی بلکہ اٹھارہ ہزار کا اندازہ تھا اگر ان کے لئے دو پہرہ دار مقرر کر دیئے جاتے تو پندرہ سولہ ہزار روپیہ بچ جاتا لیکن صدرانجمن احمد یہ نے ان پر کوئی پہرہ دار مقرر نہیں کیا اور اب جو بعض مواقع پر مجھے اُس طرف جانا پڑا تو میں نے دیکھا کہ وہ سب کی سب منہدم ہو چکی ہیں ۔ دو پہرہ داروں پر کوئی آٹھ نوسور و پیہ سالانہ خرچ آنا تھا لیکن کجا آٹھ نوسور و پی اور گجا سولہ ہزار روپیہ کی ایک بڑی رقم ۔ گویا اگر صد را نجمن احمد یہ دو پہرہ دار مقرر کر دیتی تو پانچ فیصدی رقم خرچ کر کے سولہ ہزار روپیہ بچایا جا سکتا تھا۔ بہر حال جب کوئی چیز بنائی جاتی ہے اُس کی حفاظت پر اگر پہرہ دار لگا دیئے جائیں تو کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو کہے اُس کی حفاظت کے لئے کیوں پہرہ دار مقرر کئے گئے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر چار پہرہ دار بھی مقرر کئے جاتے تو یہ خرچ نقصان کی نسبت بہت کم ہوتا اور اس خرچ کے ضروری ہونے پر کوئی شخص اعتراض نہ کرتا۔ لیکن اب سولہ ہزار روپیہ میں سے ایک ہزار روپیہ کی بچت نکل آئے تو نکل آئے باقی رقم سب ضائع چلی گئی ہے۔ لیکن اگر اس رقم کو ضائع بھی سمجھا جائے تب بھی یہ بات نہایت خطرناک ہے کہ ابھی تک مہمانوں کی رہائش کی کوئی صورت نہیں۔ صدر انجمن احمد یہ نے ابھی تک صرف اتنا کام کیا ہے کہ قاضی محمد عبداللہ صاحب ناظر ضیافت نے صدرا نجمن احمد یہ کو لکھا کہ مہمانوں کی رہائش کے انتظامات کے لئے ایک سب کمیٹی مقرر کر دی جائے۔ حالانکہ کام سر پر ہے اور اب عمارتیں بنانے کا سوال ہے سب کمیٹی بنانے کا سوال نہیں ۔ خرید اشیاء تو دو تین دن میں بھی ہو سکتی