خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 193

$1950 193 خطبات محمود کو جوش دلانا اور ان کا احمدیوں کے خلاف تقریریں کرنا تھا اور یہ ایک جگہ کا حال نہیں ہر جگہ یہی ہو رہا ہے۔ان حالات میں پہلی نصیحت تو میں جماعت کے دوستوں کو یہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ان امور کو ابتلاء شر نہ سمجھیں بلکہ دینی ترقی کا ذریعہ سمجھیں۔یہ بزدلوں اور بے ایمانوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ مصائب کے آنے پر گھبرا جاتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کے ابتدا میں ہی منافق کی یہ علامت بیان فرمائی ہے کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ ٹھہر جاتا ہے اور جب آرام اور راحت کا وقت آتا ہے تو چل پڑتا ہے۔3 مومن وہ ہوتا ہے جو مصائب کے وقت اور بھی زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ احزاب کے موقع پر جب مسلمانوں سے کہا گیا کہ لوگ اکٹھے ہورہے ہیں اور وہ تمہیں مارنے کی فکر میں ہیں تو انہوں نے کہا یہ تو ہمارے ایمانوں کو بڑھانے والی بات ہے 4 کیونکہ ہمارے خدا نے پہلے سے ان واقعات کی خبر دے رکھی تھی۔اس سے ہمارے ایمان متزلزل کیوں ہوں گے۔وہ تو اور بھی بڑھیں گے اور ترقی کریں گے۔پس ایسے امور سے مومنوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مدارج کو بلند کرنے کے سامان پیدا کر رہا ہے۔ہم میں سے کون ہے جس نے ایک دن مرنا نہیں۔مگر ایک موت کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ طبعی موت ہوتی ہے۔اور دوسری موت کے متعلق فرماتا ہے کہ ایسے مرنے والے ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں۔بلکہ فرماتا ہے تم ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو رزق مل رہا ہے۔5 یعنی ان کی روحانی ترقیات کے سامان متواتر ہوتے چلے جائیں گے۔دشمن تو یہی دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ تم کو مٹادے اور وہ تم کوٹنگین بنادے مگر جب وہ دیکھتا ہے کہ تمہیں مارا جاتا ہے تو تم اور بھی زیادہ دلیر ہو جاتے ہو، تم اور بھی زیادہ بہادر ہو جاتے ہو تم اور بھی زیادہ خوش ہو جاتے ہو اور کہتے ہو کہ خدا نے ہماری ترقی کے کیسے سامان پیدا کئے ہیں تو اس کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیالکوٹ تشریف لے گئے تو مولویوں نے یہ فتویٰ دے دیا کہ جو شخص مرزا صاحب کے پاس جائے گایا ان کی تقریر میں شامل ہوگا اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔یہ کافر اور دجال ہیں۔ان سے بولنا، ان کی باتیں سنا اور ان کی کتابیں پڑھنا بالکل حرام ہے بلکہ ان کو مارنا اور قتل کرنا ثواب کا موجب ہے۔مگر آپ کی موجودگی میں انہیں فساد کی جرات نہ ہوئی کیونکہ چاروں طرف سے احمدی جمع تھے۔انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ان کے جانے کے بعد فساد کیا جائے۔