خطبات محمود (جلد 31) — Page 181
$1950 181 خطبات محمود سمجھا کہ اب تو یہ یہیں ہیں کسی دن فائدہ اُٹھا لیں گے۔پھر سمجھا کہ اب تو یہ جاہی رہے ہیں ہم کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مگر اُن لوگوں نے سمجھا کہ یہ چند دن کے لئے آئے ہیں اس لئے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا لینا چاہیے۔کراچی میں تو میری حالت بھی ایسی نہیں تھی کہ میں بات کر سکتا۔کوئٹہ میں تو صرف پیر کی درد تھی لیکن کراچی میں مجھے کھانسی کی مرض تھی پھر بھی ایک دن صبح دس بجے سے رات کے دس بجے تک ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔میرا گلا پک گیا اور بُرا حال ہوا۔مگر ان کی رغبت جو تبلیغ کی طرف تھی اس سے بھی میں متاثر تھا۔میں سمجھتا ہوں اگر میں کراچی نہ جاتا تو بہت جلد اچھا ہو جاتا۔اب لاہور میں آیا ہوں تو سات دن کے بعد آج پہلی دفعہ بولا ہوں۔اتنے دن مجھے آرام کے مل گئے۔گو آج ہی میں گھر میں کہہ آیا تھا کہ اب پھر میری شامت آنے والی ہے کیونکہ میں خطبہ کے لئے چلا ہوں۔بہر حال وقفہ کا طبیعت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔اگر کراچی میں مجھے وقفہ مل جاتا تو میں سمجھتا ہوں کہ کھانسی جلد دور ہو جاتی مگر پھر وہ مزا بھی نہیں آسکتا تھا جو بیماری کی حالت میں کام کرنے پر مجھے وہاں آیا۔قصہ مشہور ہے کہ سیالکوٹ کا ایک شخص جو لاہور میں کلرک تھا اسے سل ہو گئی۔جب اُس کی حالت زیادہ خراب ہوگئی تو وہ رخصت لے کر گھر چلا۔گاڑی سے اتر کر وہ سڑک پر جارہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک پہلوان نے اپنے جسم پر تیل ملا ہوا ہے، سرمنڈوایا ہوا ہے اور اپنی ٹنڈ پر مکھن ملا ہوا ہے۔وہ دھوپ میں خوب چمک رہا ہے اور خو دلٹک لٹک کر اور مچل مچل کر چل رہا ہے۔اس نے جب پہلوان کو اس طرح اکڑ کر چلتے دیکھا اور اسے یہ بھی نظر آیا کہ اس نے سرمنڈ وایا ہوا ہے مکھن ملا ہوا ہے اور سر چمک رہا ہے تو اسے شرارت کو بھی اور اس نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر زور سے انگلی ماری جس سے کمشن کی آواز پیدا ہوئی۔پہلوان نے مُڑ کر دیکھا کہ شاید میرا کوئی دوست ہے جس نے مجھ سے یہ مذاق کیا ہے مگر وہاں دوست کہاں تھا اُسے ایک ایسا شخص نظر آیا جس کی ہڈی ہڈی اور جوڑ جوڑ الگ نظر آتا تھا اور سخت نحیف اور لاغر اور کمزور تھا۔اسے یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا اور اس نے اس زور سے اُسے ٹھڈ امارا کہ وہ اُچھل کر دور جا پڑا۔پھر اس پر اُس نے بس نہ کی بلکہ لاتوں اور گھونسوں سے اسے مارنے لگ گیا۔وہ ماری کھا تا جا تا اور کہتا جاتا تھا کہ ” پہلوان جی انہیں کتنا بھی مارلو تہانوں اوہ مزا نہیں آسکد اجو مینوں آیا یعنی پہلوان صاحب! جتنا مار سکتے ہو مار لومگر آپ کو وہ مزا نہیں آسکتا جو مجھے آپ کے فرقدان 1 پر انگلی مارنے سے آیا تھا۔تو اس میں طبہ نہیں کہ اگر میں خاموش رہتا تو میری کھانسی اچھی ہو جاتی مگر اس نے ہے۔