خطبات محمود (جلد 31) — Page 10
1950ء 10 خطبات محمود بالکل ممکن ہو سکتا ہے کہ بقیہ سال تحریک جدید قرضہ لے کر گزارے۔ اور ایسا گزشتہ پندرہ سال میں بھی نہیں ہو ایتی کہ سال 1947ء 1948ء میں بھی جو کہ بڑی تباہی کا سال تھا تحریک جدید کو قرضہ لے کر نہیں گزارنا پڑا۔ اب جبکہ امن ہو چکا ہے ایسی حالت کا پیدا ہو جانا خطر ناک ہے۔ ابھی بقیہ مہینوں میں تحریک جدید کانوے ہزار کا خرچ باقی ہے اور خزانہ میں صرف پندرہ ہزار روپیہ کی رقم ہے۔ اور اتنی رقم اور وصول ہو سکتی ہے کہ نوے ہزار ہو جائے اور تحریک جدید خیریت سے بقیہ سال گزار سکے۔ غرض 75، 80 ہزار کے وعدے باقی ہیں ۔ اور دفتر دوم کی حالت تو بہت ہی خراب ہے۔ دفتر دوم کی مقدار چونکہ کم ہے اس لئے بقایا کم ہے لیکن اس کا بقایا کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے۔ اگر وہ وصول ہو جائے تو ان قرضوں کی ادائیگی میں بہت کچھ آسانی ہو جائے جو تحریک جدید نے جائیدادیں بنانے کے لئے لئے تھے۔ پس احباب اول تو پورا زور لگا کر فروری مارچ اور اپریل میں دفتر اول اور دوم کے گزشتہ بقائے وصول کر لیں اور دوسرے دور اول اور دوم کے موجودہ سال کے وعدوں کو پچھلے سالوں کے وعدوں سے بڑھانے کی کوشش کریں۔ بلکہ دفتر دوم کو تو بہت زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اب وہ وقت قریب آنے والا ہے جبکہ سارا بوجھ دفتر دوم پر ڈال دیا جائے۔ اب تو صرف یہ ہوتا ہے کہ دفتر اول خرچ اُٹھاتا ہے اور دفتر دوم قرضوں کو ادا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن آئندہ سارا بوجھ دفتر دوم پر ڈال دیا جائے گا۔ نئی پود خدا تعالیٰ کے فضل سے تعداد میں زیادہ ہے اور ان کی آمدنی بھی پہلوں کی آمد سے زیادہ ہے۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ وہ سارا بوجھ نہ اُٹھا سکے بشرطیکہ اُس کے اندر اس کا احساس پیدا ہو جائے ۔ اس کے بعد دوسرا امر جس کے متعلق میں آج کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ جب جماعت کی مخالفت پھر اس ملک میں شروع ہو جائے ۔ دشمن اپنی دنیوی اغراض کے لئے مختلف بہانے بنا بنا بنا بنا بن کر کر اور اپنے پاس سے جھوٹ تراش کر جماعت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے بلکہ عَلَی الإِعْلان یہ ترغیب دلائی جاتی ہے کہ اگر تم ایک ایک احمدی کو مار ڈالو تو یہ جماعت ختم ہوسکتی ہے۔ 1947 ء میں پارٹیشن سے پہلے جب جماعت ان مظالم کا مقابلہ کر رہی تھی جو مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر ہور ہے تھے تو اس کی تعریفیں کی جاتی تھیں ۔ جب مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کے نکل جانے کے بعد قادیان کا مرکز قائم رہا اور دشمن کا مقابلہ کرتا رہا تو اس کی تعریف کی جاتی تھی ۔ جب کشمیر کے معاملہ میں سب سے