خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 77

$1950 77 خطبات محمود ایک ہوشیار مرغی یا ایک ہوشیار فاختہ میں ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ بھی انہی بچوں کو اپنا قرار دے گا جو اُسے ماں سمجھتے ہوں گے اور جن کو خدا تعالیٰ سے بچوں کی نسبت ہوگی۔پس مومن کو اپنے اخلاق خدا تعالیٰ کے اخلاق کی طرح بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تا وہ باپ کا ورثہ پاسکے۔جس نے اپنے باپ کا ورثہ نہیں پایا اُس نے باپ کا بیٹا ہونے کا کیا پھل لیا۔آخر کسی کو ماں باپ کہہ دینے سے وہ ماں یا باپ نہیں بن جاتا۔ماں باپ اُن اخلاق سے بنتے ہیں جو وہ اولا د کی طرف منتقل کرتے ہیں یا اولا دان سے حاصل کرتی ہے۔ہندوستان کی تاریخ کا ایک مشہور لطیفہ ہے۔کوئی عورت عبدالرحیم خان خاناں پر جو اکبر بادشاہ کے اتالیق تھے عاشق ہو گئی اور اس نے انہیں رقعہ پر رقعہ لکھنا شروع کر دیا کہ مجھ سے شادی کر لیں۔اُس زمانہ کی عورت کا غیر مردکو خط لکھنا عجیب معلوم ہوتا تھا۔اسی لئے اُس نے اُس زمانہ کے حالات کے مطابق اپنی اس حرکت پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ لکھا کہ چونکہ آپ کے اخلاق بہت بلند اور اعلیٰ ہیں اور وہ مجھے پسند ہیں اس لئے میں چاہتی ہوں کہ میری اولاد میں سے بھی کوئی ایسا شخص ہو جس کے اخلاق آپ کی مانند ہوں۔عبدالرحیم خان خاناں اُس سے شادی کرنا نہیں چاہتے تھے لیکن اس عورت نے انہیں بہت دق کیا۔اگر وہ کھانا کھانے بیٹھتے تو اُس عورت کا رقعہ پہنچ جاتا اور اگر وہ شام کو اپنے کی دوستوں میں بیٹھتے تو اُس عورت کا کوئی رقعہ پہنچ جاتا۔غرض ہر مجلس میں اس عورت کا رقعہ پہنچ جاتا کہ مجھے سے شادی کر لو۔آخر عبدالرحیم خان خاناں نے اس عورت کو بلایا اور کہا بی بی ! تم نے لکھا ہے کہ میں تم سے شادی کرلوں تا تمہارے ہاں میرے جیسی اولاد پیدا ہو۔لیکن تم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات ماں باپ کی کی اولا دا چھی پیدا نہیں ہوتی اس لئے ممکن ہے کہ میں تم سے شادی کرلوں اور اولا د بھی پیدا ہو جائے لیکن اُس کے اخلاق میرے اخلاق کی مانند نہ ہوں۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ تم میرے ساتھ شادی کرو تم مجھے اپنا بیٹا بنا لو تا یہ امکان باقی نہ رہے کہ شاید میرے نطفہ سے پیدا شدہ اولا دمیر اخلاق پر نہ ہو اور میں بھی آئندہ تم سے ماں باپ جیسا ہی سلوک کروں گا اور تمہاری بچوں کی مانند خدمت کروں گا۔غرض جہاں اولاد میں ماں باپ کے اخلاق و عادات اور اطوار بطور ورثہ کے آتے ہیں اسی طرح بعض دفعہ بُری صحبت کی وجہ سے اولاد کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں اور اس کے اخلاق والدین کے اخلاق کی مانند نہیں ہوتے۔لوگ انہیں نا خلف کہتے ہیں۔خلف ایسی اولا د کو کہتے ہیں جس کو