خطبات محمود (جلد 31) — Page 48
$1950 48 خطبات محمود کے اصول کی پابندی کریں۔لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی طرف توجہ بہت کم کی جاتی ہے۔احمدیت کے قیام کو 50 سے زیادہ سال ہو گئے ہیں اور اسلام کو قائم ہوئے 1400 سال ہونے والے ہیں لیکن عہد نبوی کے بعد بعض احکام کو اس طرح ترک کر دیا گیا ہے کہ گویاوہ لغو اور فضول ہیں۔ہماری جماعت نے بھی اُن کو قبول نہیں کیا۔اور حالت یہ ہوگئی ہے کہ مذہب سنجیدگی کی بجائے مضحکہ خیز اور تمسخر معلوم ہوتا تو ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مسجد میں بچے پیچھے بیٹھیں اور بڑے آدمی آگے بیٹھیں۔1 میں نے ربوہ آ کر بھی اس پر ایک خطبہ پڑھا تھا۔لیکن اب تم دیکھ لو کہ ایک نئے مامور کی جماعت اس پر کیا عمل کر رہی ہے؟ جماعت کے ناظر بھی یہاں موجود ہیں، علماء اور فقہاء بھی یہاں موجود ہیں، تم میں بعض کے باپ اور دادے بھی موجود ہیں لیکن کسی نے بھی یہ خیال نہیں کیا کہ اس حکم کے بھی کوئی معنے ہیں۔بچے آگے بیٹھے ہیں اور بڑے پیچھے بیٹھے ہیں۔گویا تم نے اُس شخص کی باتوں کو جو آسمان سے آیا ہے بے حقیقت سمجھ رکھا ہے۔اسلام کا دوسرا حکم یہ ہے کہ اذان کو سنو اور اُس کے الفاظ منہ میں دہراؤ۔2 لیکن جب اذان ہو رہی تھی ایک لڑکے نے میرے ہاتھ پر پنجہ مارا اور پھر ایک رقعہ دے دیا۔اسی طرح بار بار وہ میرے ہاتھ پر پنجہ مارتا اور مجھے رقعہ دیتا جاتا۔کوئی دیکھنے والا کیا کہتا ؟ یہی کہ دوسرے کو کہتے ہیں کہ مسجد میں آکر ذکر الہی کرو اور خود عمل نہیں کرتے۔اگر اُس بچہ کی جگہ پر کوئی بڑا ہوتا تو اُسے کچھ سمجھ ہوتی اور وہ ایسا نہ کرتا۔یہ رقعے اس بچے نے خود نہیں لکھے تھے کسی اور نے دیئے اور اُس نے مجھے پکڑا دیئے۔لیکن لکھنے والے کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ میں نے جس زبان سے اذان کے کلمات دہرانے ہیں اُسی زبان سے دعا کرنی ہے۔اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دعا قبول کیسے ہوگی۔خدا تعالیٰ کی جب ہتک کی جائے تو میری یہ دعا کیسے سنی جائے گی۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے سے بھی ایسی دعا قبول نہیں ہو سکتی۔رقعہ دینے والے کو چاہیے تھا کہ جب میں مسجد سے باہر تھاوہ اُس وقت رقعہ دے دیتا یا اُس وقت رقعہ دیتا جب میں فارغ ہو کر واپس جاتا۔ادھر تو رقعہ دینے والوں نے مجھے ڈگڈگی بجانے والے کی طرح بنایا ہے اور اُدھر اذان تمہاری باجہ بن گئی ہے۔تم خدا تعالیٰ کی ہتک کرتے ہو اور جب تم اُس کی ہتک کرتے ہو تو وہ تمہارے حق میں میری دعا کیسے سُنے گا۔اسی طرح ایک اور بات ہے جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ