خطبات محمود (جلد 31) — Page 40
$1950 40 خطبات محمود ہیں مگر حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ان حالات میں تم بتاؤ کہ کیا تمہارے لئے خدا تعالیٰ کے بندے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا! اگر تو نے ان لوگوں کو مرنے دیا تو تیرا نام لینے والا اس دنیا میں کوئی نہیں رہے گا؟ یہ بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن اگر اس کو تم اپنے نفس پر چسپاں کرو اور اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کرو کہ تمہاراثنا اللہ تعالیٰ کی غیرت کبھی برداشت نہ کر سکے تو تم کہیں سے کہیں ترقی کر کے نکل جاؤ۔پس صبح اور شام سوچو کہ اگر میں مر جاؤں تو کیا خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے؟ اگر تمہارا نفس تمہیں یہ جواب دے کہ ہاں پہنچے گا تو تم سمجھ لو کہ تم اور تمہارے جیسے کچھ اور افراد ( کیونکہ جماعت ر حقیقت منظم افراد کے مجموعہ کا ہی نام ہوتا ہے) کی وجہ سے ہی دینِ اسلام اور احمدیت کو بچا لیا جائے گا۔لیکن اگر تمہارا نفس تمہیں یہ جواب دے کہ تمہارے مرنے سے خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو کوئی نقصان کی نہیں پہنچ سکتا تو جس طرح گھر میں ایک گستا داخل ہوتا اور نکل جاتا ہے اور کوئی اُس کو پوچھتا بھی نہیں یہی تی تمہاری حیثیت ہے۔اور اگر تم اپنے نفسانی اغراض کو پورا کرنے میں ہر وقت منہمک رہتے ہو تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اگر تمہارا دشمن کبھی تم پر حملہ کرے تو زمین آسمان سے مخاطب ہو کر کبھی نہ کہے گی کہ اللَّهُمَّ اِنْ اَهْلَكْتَ هَذِهِ الطَّائِفَةَ الصَّغِيْرَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ اَبَدًا۔اے خدا! اگر یہ چھوٹی سی جماعت ماردی گئی تو پھر تیرا نام لینے والا اس دنیا میں کوئی نہیں رہے گا۔یہ مٹ جائیں گے پیشتر اس کے کہ اُس عظمت کو حاصل کریں جس عظمت کو حاصل کرنے کے لئے یہ کھڑے ہوئے تھے۔یہ مٹ جائیں گے پیشتر اس کے کہ اُس نظام کو قائم کریں جس نظام کو قائم کرنے کے لئے یہ کھڑے ہوئے تھے۔یہ مٹ جائیں گے پیشتر اس کے کہ اُس شریعت کو قائم کریں جس شریعت کو قائم کرنے کے لئے یہ کھڑے ہوئے تھے۔بے شک یہ مٹ جائیں گے کیونکہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں اور ان کا مٹانا کوئی عم مشکل امر نہیں۔بے شک ان کا نام لینے والا دنیا میں کوئی باقی نہیں رہے گا۔ان کی شہرت باقی م نہیں رہے گی۔تاریخ انہیں یاد نہیں رکھے گی۔اور بے شک اس میں ان کا نقصان ہے۔مگر انسان ہونے کے لحاظ سے یہ اتنا بڑا نقصان نہیں۔انسان ہوتا ہی گمنام ہے۔اگر ان کا نام مٹ گیا تو اے خدا! یہ وہ چیز کھوئیں گے جو انہیں ابھی ملی نہیں۔یہ وہ چیز کھو ئیں گے جو بھی تیرے پاس ہے ان کے پاس نہیں آئی۔انہوں نے ابھی اپنا نام پیدا کرنا تھا، انہوں نے ابھی تاریخ میں اپنے لئے مقام حاصل کرنا تھا۔یہ مٹے تو وہ چیز کھوئیں گے جو ابھی انہیں نہیں ملی۔مگر اے خدا! ان کے مٹنے کے ساتھ ہی تیرا نام بھی مٹ