خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 38

$1950 38 خطبات محمود یہ ماننا پڑے گا کہ جن حالات میں یہ شہادت دی گئی تھی اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے دُنیوی لحاظ سے بھی یہ شہادت بہت بڑی اہمیت رکھتی تھی۔قطع نظر اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے رسول تھے قطع نظر اس کے کہ آپ صادق اور امین تھے قطع نظر اس کے کہ کوئی غلط کلمہ آپ کی زبان سے نہیں نکل سکتا تھا۔کوئی اور لیڈر بھی اگر ان حالات میں یہ بات کہتا تو مانا پڑتا کہ اُس کا یقین وہی تھا جس کا اس نے اظہار کیا۔اور اس کے نقطہ نگاہ سے تسلیم کرنا پڑتا کہ وہ اپنی جماعت کے متعلق یہی عقیدہ رکھتا تھا کہ خدا تعالیٰ اس جماعت سے زندہ ہے۔اور یہ یقینی بات ہے کہ جس جماعت سے خدا زندہ ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ جس جماعت سے خدا زندہ ہو اُس کا مٹنا کوئی معمولی بات نہیں ہو سکتی۔جس جماعت سے خدا زندہ ہو کیا کسی انسان کے تصور میں بھی آسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے اور اُس کا قانونِ قدرت اور یہ سورج اور یہ چاند اور یہ زمین اور یہ آسمان جو خدا تعالیٰ کے غلام ہیں وہ کبھی اُس کو مرنے دیں گے جس سے ان کا آقا زندہ ہے؟ پھر کیا خدا ان کو مرنے دے سکتا ہے جن سے وہ خود زندہ ہے؟ یہ ایک ایسی شہادت ہے جس سے صحابہ اپنے ذہن میں فیصلہ کر سکتے تھے کہ ہم دنیا میں ایک بہت بڑا کام کر رہے ہیں اور ہماری اس دنیا میں ضرورت ہے۔میں پوچھتا ہوں کہ ہماری جماعت اپنی ضرورت کسی لحاظ سے سمجھتی ہے؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اے خدا ! اگر یہ چھوٹی سی جماعت مر جائے تو تیرا نام لینے والا اس دنیا میں کوئی باقی نہیں رہے گا ؟ جن معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرہ کہا تھا کم سے کم میں اُن معنوں میں یہ فقرہ اپنی جماعت کی نسبت نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ ابھی مجھے ان کی نمازوں میں کمزوریاں نظر آتی ہیں۔ابھی نماز کو نماز کی حقیقت کے ساتھ پڑھنے والے بہت کم لوگ ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوسروں کی نسبت زیادہ نمازیں پڑھنے والے لوگ ہم میں موجود ہیں۔لیکن نماز کو نماز کی صورت میں پڑھنا بالکل اور چیز ہے۔اسی طرح دوسرے اخلاق فاضلہ ہیں جن میں ابھی بہت بڑی کمی تی دکھائی دیتی ہے۔لَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ میں جو عبادت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اُس کے خالی یہ معنی نہیں ہیں کہ نماز پڑھی جائے۔بلکہ در حقیقت دین کے تمام احکام عبادت میں شامل ہیں۔اگر کوئی شخص سچ اس لئے بولتا ہے کہ اُسے دنیا میں عزت حاصل ہو تو وہ سچ کا فائدہ اُٹھا لے گا مگر اُس کا سچ عبادت نہیں ہو گی۔لیکن اگر کوئی شخص اس لئے سچ بولتا ہے کہ میرے خدا نے کہا ہے کہ بیچ بولو تو وہ سچ کا فائدہ بھی