خطبات محمود (جلد 31) — Page 20
$1950 20 خطبات محمود لئے تو خشی اللہ کی ضرورت ہے۔خدا رسیدہ بننے کے لئے تو نمازوں کی پابندی کی ضرورت ہے۔خدا رسیدہ بننے کے لئے تو زکوۃ، روزہ اور حج کی ضرورت ہے۔خدا رسیدہ بننے کے لئے تو ذکر الہی کی ضرورت ہے۔خدا رسیدہ بننے کے لئے تو بنی نوع انسان کی ہمدردی اور ان کے فائدہ کے لئے اپنی زندگی صرف کرنے کی ضرورت ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خدا رسیدہ بننے کے لئے دنیا سے منہ موڑ لینے کی ضرورت ہے۔لیکن تم وہ کام نہیں کرتے۔اسلام نے بے شک یہ کہا ہے کہ تم دنیا کے کام بھی کرو لیکن یہ نہیں کہا کہ تم دنیا کے کام ہی کرو۔”ہی“ اور ” بھی میں بڑا بھاری فرق ہے۔خدا تعالیٰ نے انسانی جسم کو ایسا بنایا ہے کہ دن میں تم کسی وقت سوتے بھی ہو لیکن سوتے بھی ہو“ کو یوں بدل دو کہ تم 24 گھنٹے سوتے ہی ہو تو کوئی نہیں کہے گا کہ تم نے فطرت کا تقاضا پورا کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسانی جسم کو اس طرح کا بنایا ہے کہ تم قضائے حاجت بھی کرتے ہو۔لیکن اگر تم قضائے حاجت ہی کرو تو یہ فطرت کا تقاضا نہیں ہو گا۔اگر کوئی شخص پاخانہ ہی پھرتا رہے تو وہ ہیضہ کا مریض ہے اور جلد مر جائے گا۔پس خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ تم دنیا کے کام بھی کرو۔اور تم یہ چاہتے ہو کہ دنیا کے کام ہی کرو۔اور پھر تم یہ اقرار بھی کرتے ہو کہ ہم روحانیت کو حاصل کرنے کے لئے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔اور یہ مقصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک تم میں وہ امتیازی نشان پیدا نہ ہوجود یکھنے والوں کو بتادے کہ اس کا رستہ اور ہے اور دوسروں کا رستہ اور ہے۔اگر تم کسی مشرق کے گاؤں میں جانا چاہتے ہو اور دوسرا شخص کسی مغرب کے گاؤں میں جانا چاہتا ہے تو کیا کسی کو یہ بتانے کی ضرورت پیش آئے گی کہ یہ مشرق کو جانا چاہتا ہے اور وہ مغرب کو جانا چاہتا ہے؟ یہ صاف نظر آئے گا کہ فلاں مشرق کی طرف جا رہا ہے اور فلاں مغرب کی طرف جا رہا ہے۔اگر یہ سچ ہے کہ تم خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہو اور باقی م لوگ دنیا کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو کیا تم میں اور دوسروں میں اتنا فرق بھی نظر نہیں آئے گا جتنا مشرق کی طرف جانے والے اور مغرب کی طرف جانے والے میں نظر آئے گا ؟ لازمی بات ہے کہ خدا تعالیٰ اگر مشرق کی طرف ہے تو دنیا مغرب کی طرف ہے۔ان دونوں میں اتنا بین فرق ہے کہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔خدا تعالیٰ کی پیٹھ دنیا کی طرف ہے اور دنیا کی پیٹھ خدا تعالیٰ کی طرف ہے۔اسی طرح جو شخص خدا رسیدہ بننا چاہتا ہے اُس کا منہ اور طرف ہوتا ہے اور جو دنیا دار بننا چاہتا ہے اُس کا منہ اور طرف ہوتا ہے ان کی ایک دوسرے کی طرف پیٹھ ہوتی ہے۔اگر وہ دونوں ایک ہی قسم کے کام