خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 269

$1950 269 خطبات محمود خدا تعالیٰ کا یہ فعل بتا رہا ہے کہ یہ جماعت اُس کی طرف سے ہے ورنہ مصیبت کے وقت میں کون ساتھ دیتا ہے۔اندھیرے میں تو سایہ بھی انسان سے جُدا ہوتا ہے۔ان وقتوں میں سگے رشتہ دار بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ہزاروں آدمی احمدی بھی اور غیر احمدی بھی مجھے ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب سے ہم اُجڑ کر یہاں آئے ہیں ہمارا فلاں بیٹا ہمیں پوچھتا نہیں ، ہمارا فلاں بھائی جو کھاتا پیتا ہے وہ ہمیں پوچھتا نہیں۔لیکن صرف ربوہ میں ہی سینکڑوں بیوہ اور غریب عورتیں پڑی ہوئی ہیں ان میں سے بعض کی اولادیں زندہ ہیں لیکن وہ انہیں پوچھنے کے لئے تیار نہیں۔بعض کے بھائی اچھے کھاتے پیتے ہیں لیکن وہ ان کی پرورش نہیں کرتے۔سلسلہ ہی ان کا بھائی ہے ، سلسلہ ہی ان کا باپ ہے اور سلسلہ ہی ان کی ماں ہے۔وہی خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال سے اُنہیں کھلاتا پلاتا ہے۔پس ایسی مصیبت کے وقت جب اپنے بہن بھائی اور اولادیں چھوڑ جایا کرتی ہیں اُس وقت خدا تعالیٰ دور دراز ممالک سے لوگ کھینچ کھینچ ؟ کر یہاں لا رہا ہے۔یہ دکھانے کے لئے کہ اگر دنیا نے تمہیں چھوڑ دیا ہے تو میں جو تمہارا خدا ہوں تمہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔پس برکت والا ہے وہ خدا جس نے اسلام کو قائم کیا اور برکت والا ہے وہ خدا جس نے احمدیت کو قائم کیا اور برکت والا ہے وہ خدا کہ جب اُس کے بندے مجبور و مقہور ہو جاتے ہیں، جب اس کے بندے دنیا میں ذلیل کر دیے جاتے ہیں تو وہ آسمان سے اتر کر انہیں محبت کا پیغام دیتا اور اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔“ خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: میں نماز کے بعد بعض دوستوں کا جنازہ پڑھاؤں گا جو سلسلہ کے ساتھ اخلاص رکھنے والے تھے اور یا وہ ایسی جگہوں پر فوت ہوئے جہاں جنازہ پڑھنے والے یا تو تھے ہی نہیں اور اگر تھے تو وہ بہت کم تعداد میں تھے۔1 - شیخ عبدالعزیز صاحب ملتانی۔اصل میں یہ ملتان کے رہنے والے تھے لیکن اب وہ کوئٹہ میں رہتے تھے۔2۔خواجہ محمود الحسن صاحب بنی اسرائیل۔یہ بہت مخلص اور سلسلہ کی خدمت کرنے والا نو جوان تھا۔3۔اہلیہ صاحبہ ملک غلام حسین صاحب نیروبی و مشرقی افریقہ۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وقت سے ہی احمدی تھیں۔ہم ابھی بچے ہی تھے کہ یہ قادیان آگئیں۔ملک غلام حسین صاحب