خطبات محمود (جلد 31) — Page 268
$1950 268 خطبات محمود نہیں ہوتی۔حج میں تو مخلوق کا ایک ہجوم ہوتا ہے ، لوگ کثرت سے باہر سے آتے ہیں اور وہ دوڑ دوڑ کر اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔لیکن عمرہ میں ہجوم نہیں ہوتا۔لوگ آتے ہیں، اکٹھے بیٹھتے اور آپس میں ملتے ہیں۔وہ مکہ میں آکر اپنے تجارب مکہ والوں کو دے جاتے ہیں اور اُن کے تجارب اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔اسی طرح جلسہ سالانہ کے علاوہ بھی یہاں بار بار آنا ضروری ہے بلکہ یہاں بار بار آنا اتنا ضروری ہے کہ مرکز کے لوگ آپ کو دیکھتے ہی پہچاننے لگ جائیں اور خیال کریں کہ یہ تو یہیں کے رہنے والے ہیں۔ابھی ہم یہاں آنے کے لئے زیادہ زور نہیں دے سکتے کیونکہ ہمارے پاس مہمانوں کو ٹھہرانے کی جگہ نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی نصرت بتا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے صدمہ کو دور کرنے کی تدبیر کر رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قادیان ہمارا دائمی مرکز ہے لیکن قادیان سے نکلنے کی وجہ سے طبائع کو جو صدمہ پہنچا تھا خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ مواسات کرے اور خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اس صدمہ میں شریک ہو۔چنانچہ دیکھ لو قادیان میں غیر ممالک سے جتنے لوگ دس سال میں نہیں آئے تھے ربوہ میں وہ ایک سال میں آئے ہیں۔اسی ہجرت کی حالت میں سب سے پہلے مسٹر عبدالشکور کنزے جرمنی سے آئے۔پھر رشید احمد امریکہ سے آئے۔پھر چین سے کچھ نوجوان آگئے۔پھر انڈونیشیا سے مسٹر رنگکوئی آگئے۔پھر مصر سے ایک دوست آئے۔سوڈان سے ایک دوست آئے جو ابھی تک یہیں ہیں۔پھر ایسے سینیا سے مسٹر رضوان عبداللہ آ گئے۔بور نیو سے ایک نوجوان آگئے۔اب مغربی افریقہ سے ایک دوست آئے ہیں۔قادیان میں اتنے لوگ دس سال میں بھی ان ممالک سے نہیں آئے تھے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ نے ربوہ کو قادیان سے زیادہ برکت دے دی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قادیان میں ہمارے دل زخمی نہ تھے ربوہ میں ہمارے دل زخمی تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے بطور ہمدردی ہم سے یہ سلوک کیا۔ہمدردی کرنے اور ماتم پرسی کرنے لوگ اُسی کے گھر جاتے ہیں جس کے گھر ماتم ہو۔خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ ان کے دل زخمی ہیں اور کمزور لوگ خیال کر رہے ہیں کہ جماعت کی جڑیں کمزور ہو رہی ہیں تب خدا تعالیٰ نے چاہا کہ یہ لوگ اگر زخمی ہیں تو ان سے ہمدردی کرنے کے لئے مختلف ممالک سے لوگ آئیں۔اور اگر کمز ور لوگ خیال کرتے ہیں کہ جماعت کی جڑیں کمزور ہوگئی ہیں تو خدا تعالیٰ نے بیرونی ممالک سے اتنے لوگ یہاں لا کر بتا دیا کہ جماعت کی جڑیں یہاں کمزور نہیں ہور ہیں بلکہ وہ بیرونی ممالک میں بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔