خطبات محمود (جلد 31) — Page 19
$1950 19 خطبات محمود تعلیم کے لئے کوئی وظیفہ نہیں ملا۔اور نہ تم اپنے آپ کو پاگل کہتے ہو اور نہ سنے والا تمہیں پاگل کہتا ہے۔ایک سپاہی کا یہ کہنا کہ میں فوج میں بھرتی ہوا تھا لیکن ابھی تک مجھے تکڑی بھی ہاتھ میں پکڑنی نہیں آئی یا ت میں فوج میں بھرتی ہوا تھا لیکن اب تک مجھے کلہاڑا چلانا بھی نہیں آیا اُسے پاگل قرار دینے کے لئے کافی ہے۔لیکن جب تم کہتے ہو کہ ہم خدا رسیدہ آدمی بننے کے لئے گھروں سے نکلے تھے لیکن اب تک ہمارا وظیفہ نہیں لگا۔ہم خدا رسیدہ آدمی بننے کے لئے گھروں سے نکلے تھے لیکن ہماری نیک نامی کا قوم میں سامان پیدا نہیں ہوا۔ہم خدا رسیدہ آدمی بننے کے لئے گھروں سے نکلے تھے اور اب تک ہمیں دولت مند بنانے کے کوئی سامان پیدا نہیں ہوئے تو تم اپنے آپ کو پاگل قرار نہیں دیتے۔حالانکہ جب کوئی شخص اپنے مقصد کے خلاف بات کہتا ہے تو لوگ اُسے پاگل کہتے ہیں۔جب کوئی شخص کے خلاف کوئی امید ظاہر کرتا ہے تو لوگ اُسے پاگل کہتے ہیں۔کہتے ہیں کسی بادشاہ کے پاس کوئی مدعی نبوت آیا۔تھا تو وہ جھوٹا لیکن زیرک آدمی تھا۔وہ ایسا ن فاتر العقل نہیں تھا کہ موٹی موٹی حماقتوں کو بھی نہ سمجھ سکے۔بادشاہ نے ایک تالا جو اُس وقت کے مشہور آہنگروں سے بھی نہیں گھلتا تھا منگوایا اور اُس کے سامنے رکھ کر کہا اگر تم نبی ہو تو یہ تالا کھول کر دکھا دو۔اس مدعی نبوت نے جواب دیا کہ اے بادشاہ! مجھے تمہارے بادشاہ ہوتے ہوئے یہ امید نہیں تھی کہ تم ایسی حماقت کی بات کرو گے۔تمہارے ذمہ ملک کا انتظام ہے اور اس کے لئے عقل کی ضرورت ہے۔میں نے تمہارے سامنے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں نبی ہوں اور تم ثبوت مانگتے ہو کہ میں بڑا لوہار ہوں۔میں لوہار ہونے کا مدعی نہیں نبوت کا مدعی ہوں۔بے شک اگر اُس سے نبوت کی باتیں بھی پوچھی جاتیں تو وہ نہ بتا سکتا لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُس نے بادشاہ کی حماقت کو ثابت کر دیا۔لیکن اس مثال کو الٹ دو اور یوں سمجھ لو کہ وہ شخص جاتا اور بادشاہ کے سامنے جا کر یہ کہتا ہے کہ میں نبی ہوں اور ثبوت یہ ہے کہ میں کپڑا بڑا اچھا بن سکتا ہوں۔میں نبی ہوں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں ہل بڑا اچھا چلا سکتا ہوں۔میں نبی ہوں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں ہتھوڑے کا استعمال بڑا اچھا جانتا ہوں۔اب تم بتاؤ کہ کیا کوئی معقول آدمی اسے مان سکتا تھا ؟ تم بھی احمدیت میں داخل ہونے سے یہ اقرار کرتے ہو کہ ہم خدا رسیدہ بننے کے لئے تیار ہیں۔لیکن خدا رسیدہ بننے کے لئے جو باتیں ہیں تم انہیں چھوڑ کر دوسری باتیں کرتے ہو۔خدا رسیدہ بننے کے