خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 254

$1950 254 خطبات محمود طاقت کو صیح استعمال کرنا اور آئندہ نسل کے اندر صیح جذبہ قربانی پیدا کرنا اور اس کی صحیح تربیت کرنا ہے جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی اور پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔صرف رو پیدا کٹھا کرنے کے لئے نہیں بلکہ قوم کو زندہ کرنے اور آئندہ نسل کے اندر بیداری پیدا کرنے اور اسے آئندہ جنگ کے لئے تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جماعت کا ہر فرد جو تحریک جدید میں ابھی تک حصہ نہیں لے رہا اُسے تحریک کر کے اس میں شامل کیا جائے۔تحریک جدید میں ہر حصہ لینے والا جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا کو فتح کرنے کے لئے کچھ کرنے لگا ہے۔جب اُسے یاددہانی کرائی جاتی ہے تو اُس کے اندر پھر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کو فتح کرنے اور اسلام کو دیگر ادیان پر غالب کرنے کے لئے میری جدوجہد کی ضرورت ہے اور میں اس کے لئے وعدہ کر چکا ہوں لیکن ابھی تک میں نے اس وعدہ کی کو پورا نہیں کیا۔پھر جب وہ وعدہ پورا کرتا ہے تو پھر اُس کا دل اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا کو اسلام میں داخل کرنے کے لئے جو جدوجہد کی جارہی ہے اُس میں میں بھی شریک ہوں اور میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر چکا ہوں۔تو دیکھو تحریک جدید میں حصہ لینے سے اُسے اپنے ایمان کو تازہ کرنے کے کتنے مواقع میسر آتے ہیں اور کس طرح اسکے اندر متواتر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے دیگر ادیان پر غالب کرنے کی ذمہ داری اُس پر بھی ہے اور اس کا میں نے بیڑا اٹھایا ہے۔تحریک جدید کا مجرد وعدہ پھر اس وعدہ کو پورا کرنے کی مجرد تحریک اور پھر کچھ رقوم کا دے دینا انسان کے اندر ایک ولولہ اور جوش پیدا کرتا ہے اور اسے قائم رکھتا ہے۔پس اس سال خصوصیت کے ساتھ جب کہ میں نے شرائط کو اتنا ہلکا کر دیا ہے کہ وہ پہلے دور کی شرائط کے ساتھ مل گئی ہیں۔(سوائے ایسے بیکار شخص کے جس کی آمد کی کوئی صورت نہ ہو ) اس میں حصہ لینا ہر انسان کے لئے ممکن ہو گیا ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے بیوی بچوں کی طرف سے تحریک جدید میں حصہ لیتے ہیں۔ان کا اپنے بیوی بچوں کی طرف سے حصہ لینا در حقیقت ایسا ہی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اُس کے کان میں اذان دو۔1 تحریک جدید میں اپنے بیوی بچوں کی طرف سے حصہ لینے والے کی مثال بچہ کے کان میں اذان کے الفاظ ڈالنے کی سی ہے۔یہ چیز اُن کے اندر یہ جذبہ پیدا کرتی ہے کہ آزاد کمائی کے بعد یا بڑے ہو کر ان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔لیکن اصل بیداری وہی ہے جس کا نمونہ اولا دخود سمجھدار ہو کر دکھاتی ہے اور یہ