خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 18

$1950 18 خطبات محمود گھر سے نکلتا ہے، وہ اس لئے کسی مامور کی جماعت میں داخل ہوتا ہے تا اپنی روحانی حالت کو درست کرے۔اور پھر اپنے اردگرد کے بسنے والوں کی روحانی حالت کو بھی درست کرے جس طرح ایک فوجی میں داخل ہونے والا سپاہی جو اپنا مقصد لڑائی مقرر کرتا ہے وہ اپنے لئے ایسے ساز گار حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جن کے پیدا ہونے سے وہ اپنے مقصد کو پورا کر سکے۔وہ تلوار چلانا سیکھتا ہے، وہ بندوق کا نشانہ سیکھتا ہے، وہ پریڈ کرنا سیکھتا ہے، وہ آجکل کے فنونِ جنگ کے لحاظ سے اینٹی ایئر کرافٹ تو پوں یا دوسری تو پوں کا فن سیکھتا یا ہوائی جہازوں کا چلانا یا بحری جہازوں کے شعبوں میں سے کسی شعبہ کا کام سیکھتا ہے۔وہ تراز و پکڑ کر سو دا بیچنا نہیں سیکھتا، وہ کوئی پکڑ کر سینا نہیں سیکھتا، وہ ہل چلا کر پیج یونانہیں سیکھتا، وہ درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں آئندہ پھل کے قابل بنانا نہیں سیکھتا۔اگر وہ یہ کام کرنے کی لگ جاتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ پاگل ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ نکلا تو تھا سپاہی بننے کے لئے اور کام شروع کر دیا درزیوں کا۔نکلا تو تھا سپاہی بننے کے لئے اور کام شروع کر دیا معماروں کا یا تاجروں یا زمینداروں کا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص بھی تمہیں ایسا نظر نہیں آئے گا جو سپاہی بننے کے لئے گھر سے نکلا ہو اور بن گیا درزی ہو۔جو سپاہی بننے کے لئے گھر سے نکلا ہو اور بن گیا تاجر ہو۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں جو لوگ روحانی آدمی بننے کے لئے نکلتے ہیں ، جو لوگ خدا رسیدہ آدمی بننے کے لئے نکلتے ہیں، جو لوگ مذہبی آدمی بننے کے لئے نکلتے ہیں اُن میں سے بہت سے آدمی دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور اصل مقصد کو بھول جاتے ہیں۔کئی لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو سچائی کو قبول کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس کو قبول کرنے کے بعد ہم تو بھو کے مرنے لگ گئے ہیں۔کئی لوگ کہیں گے کہ سچائی کو قبول کرنے کے بعد ہم تو اپنی قوم میں بدنام ہو گئے ہیں۔کئی لوگ کہیں گے کہ اتنی دیر سے ہم فلاں جماعت میں داخل ہیں لیکن کسی نے ہمارے لئے کوئی اچھی ملازمت تو تلاش کی نہیں۔کئی لوگ کہیں گے کہ ہم نے دیر سے سچائی کو قبول کیا ہوا ہے لیکن ہمارے بچوں کی تعلیم کے لئے کوئی وظیفہ نہیں ملا۔ہمیں یہ عجیب بات معلوم نہیں ہوتی۔وہ عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی کہے میں سپاہی رتی ہوا تھا لیکن مجھے تو اب تک شاخ تراشی نہیں آئی۔میں سپاہی بھرتی ہوا تھا لیکن اس وقت تک درزی کا کام تو میں نے نہیں سیکھا۔وہ اگر ایسا کہتا ہے تو تم اُسے پاگل کہتے ہو۔لیکن تم میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ ہم فلاں جماعت میں داخل ہوئے تھے لیکن ہمیں کوئی اچھی ملازمت نہیں ملی۔ہمیں بچوں کی