خطبات محمود (جلد 31) — Page 17
$1950 17 خطبات محمود کے زمانہ سے چلا آ رہا ہے۔اس عرصہ میں قوموں نے ترقی بھی کی ہے اور تنزل بھی کیا ہے۔وہ بڑھی بھی ہیں اور گھٹی بھی ہیں۔لیکن ان سارے حالات کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نبوت کا نظام قائم کیا گیا ہے وہ ان سارے ہی زمانوں کے ساتھ قطع نظر اس سے کہ سیاسی طور پر قومیں ترقی یافتہ تھیں یا تنزل یافتہ ، چلا آ رہا ہے۔مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام جس ملک میں پیدا ہوئے وہ ملک فارغ البال کی تھا۔کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں نمرود بادشاہ کی حکومت تھی جو بہت بڑا طاقتور تھا اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں فرعون کی طرح اپنے آپ کو خدا سمجھا کرتا تھا۔مگر باوجود اس کے کہ دنیوی اور سیاسی طور پر ملک آگے بڑھ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اُس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جس وقت ظاہر ہوئے آپ کی قوم کمزور تھی لیکن آپ جس ملک میں آئے تھے تو اس ملک کی حکومت بڑی منظم، طاقتور اور سائنس میں بڑی ترقی یافتہ تھی۔یہاں تک کہ اس کے بعض کمالات باوجود آجکل سائنس میں عظیم ترقی کے یورپ کے سائنس دان اب بھی اپنے اندر پیدا نہیں کر سکے۔حضرت عیسی علیہ السلام جب آئے تو اُن کی قوم گری ہوئی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آپ کی قوم کی دنیوی حالت گری ہوئی تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی بعثت کا دنیوی ترقی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔بعض انبیاء اُس وقت دنیا میں آئے جب کہ اُن کی قوم دنیوی لحاظ سے گری ہوئی تھی اور بعض انبیاء اُس وقت آئے جبکہ ان کی قوم ترقی یافتہ تھی۔پس اللہ تعالیٰ نے کی نبوت کا جو سلسلہ قائم کیا ہے اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اس کا تعلق دنیوی حالت کے علاوہ اور باتوں سے ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب کوئی نبی آتا ہے تو اُس کی بدولت اور اُس کے ذریعہ اُس کی قوم دنیوی حالت میں بھی ترقی کر جاتی ہے لیکن اُس کی بعثت کی وجہ سے اُس کی قوم کا دنیوی طور پر ترقی کر جانا ضروری نہیں ہوتا۔یہ کسی نبی کی بعثت کا لازمہ نہیں ہے۔یہ اُس کا نتیجہ ہے مقصود نہیں۔مقصود اُس کا کچھ اور ہے۔اور وہ انسان کے اندر روحانیت کا پیدا کرنا ہے۔جب کوئی شخص اپنے گھر سے اس لئے نکلتا ہے کہ وہ وقت کے مامور من اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرے، وقت کے مامور من اللہ کی قوم میں شامل ہو تو وہ اس لئے گھر سے نہیں نکلتا کہ وہ ایک مسلح فوج میں داخل ہو کر اپنے ملک کی خاطر لڑائی م کرے یا کسی دفتر کی ملازمت اختیار کر کے ملک کے دنیوی نظم ونسق کی اصلاح کرے۔بلکہ وہ اس لئے