خطبات محمود (جلد 31) — Page 202
$1950 202 خطبات محمود مناسب نہیں لیکن عملاً ساری ہی جماعت نے یہ جواب دیا۔کیونکہ تبلیغ کی طرف انہوں نے توجہ نہیں کی۔میں نے انہیں کہا تھا اور اب واقعات تمہارے سامنے ہیں کہ وہ دن آنے والے ہیں کہ یہی تعریف کرنے والے تمہیں گالیاں دیں گے اور تم اُس وقت کہو گے کہ آج ہماری بہت مخالفت ہے اس لئے ہمیں تبلیغ نہیں کرنی چاہیے۔گویا کچھ دن تو تم تبلیغ سے اس لئے غافل ہو جاتے ہو کہ لوگ تمہاری تعریف کرتے ہیں۔اور کچھ دن تم تبلیغ سے اس لئے غافل ہو جاتے ہو کہ لوگ تمہاری مخالفت کرتے ہیں۔پھر وہ دن کب آئے گا جب تم تبلیغ کرو گے۔مجھے یاد ہے جب کشمیر کا کام میں نے شروع کیا تو میں اُس وقت کے وائسرائے لارڈ ولنگڈن سے ملا اور میں نے کشمیر کے معاملہ کی طرف ان کو توجہ دلائی۔انہوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں ریاستوں کے معاملات میں انگریزی حکومت دخل دینا پسند نہیں کرتی۔میں نے کہا اتنا تو میں جانتا ہوں کہ انگریزی حکومت کہتی یہی ہے کہ ہم ریاستوں کے معاملات میں دخل دینا پسند نہیں کرتے مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ حیدر آباد کے معاملہ میں انگریزوں نے دخل دیا ہوا ہے اور وہاں تین انگریز وزیر مقرر ہیں۔لارڈ ولنگڈن نے کہا تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نظام حیدر آباد اس کو پسند کرتا ہے؟ میں نے کہا ہرگز نہیں۔مجھے جو بات تعجب میں ڈالتی ہے وہ یہ ہے کہ نظام کی ناپسندیدگی تو انگریزی حکومت کو بُری نہیں لگتی لیکن مہاراجہ جموں کی ناراضگی اُسے بُری لگتی ہے۔بہت لمبی باتیں ہوئیں۔آخر لارڈ والنگڈن نے کہا کہ یہ باتیں جلدی نہیں ہوسکتیں، ان کے لئے وقت چاہیے۔پھر انہوں نے کہا جب مجھے ہندوستان میں بھجوانے کا فیصلہ ہوا تو وزیر ہند نے مجھے بلایا اور کہاولنگڈن ! ہندوستان میں شورش بڑھتی چلی جاتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام تم ہی کر سکتے ہو اور اس شورش کے دبانے کے سب سے زیادہ اہل تم ہی ہو۔کیا تم ہندوستان میں وائسرائے بن کر جانا قبول کرو گے؟ میں نے کہا اگر تو میرے ساتھ بھی وہی ہونا ہے جو پہلے وائسراؤں کے ساتھ ہوتا رہا ہے کہ ذرا کسی نے کوئی قدم اٹھایا اور کانگرس نے اس کے خلاف شور مچایا تو اس سے جواب طلبیاں شروع کر دی گئیں تو پھر تو میں یہ کام نہیں کر سکتا۔لیکن اگر آپ اس بات کے لئے تیار ہیں کہ چھ مہینے تک میں جو کچھ کروں اُس پر آپ گرفت نہ کریں تو میں جانے کے لئے تیار ہوں۔اگر چھ مہینے تک میں ہندوستان کے حالات کو سنبھال نہ لوں تو پھر آپ بیشک مجھے واپس بلا لیں۔وزیر ہند نے کہا ولنگڈن ! تم تو چھ مہینے کہتے ہو میں تمہیں بارہ مہینے کی مہلت دیتا ہوں تمہیں اختیار ہوگا