خطبات محمود (جلد 31) — Page 174
$1950 174 خطبات محمود ہے جس میں بڑی دلیری اور جرات اور بہادری کی ضرورت ہوتی ہے۔اُس وقت گھر میں بیٹھنے والا اُس باہر پھرنے والے آدمی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔مثلاً جاسوسی کا کام ہی ہے اس کے لئے بڑی ہوشیاری اور بڑی جرأت اور دلیری کی ضرورت ہوتی ہے۔لارنس ایک انگریز تھا جو عرب میں گیا اور اُس نے جاسوسی کے ذریعہ وہاں کے بڑے بڑے راز معلوم کئے۔وہ ایک معمولی آدمی تھا۔جب گیا ہے تو کیپٹن یا میجر کے عہدہ پر کام کرتا تھا مگر بعد میں قوم کا لیڈر بن گیا کیونکہ اس نے دنیا کے چکر کاٹے۔مگر آوارگی کے کی لئے نہیں بلکہ اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے تو گھر میں بیٹھنے والی عورت اگر کوئی کام نہیں کر رہی تو وہ قید ہے اور باہر پھرنے والا مردا گر کوئی کام نہیں کر رہا تو وہ آوارہ ہے۔اصل بات جودیکھنے والی ہوتی۔یہ ہے کہ جو کام کسی کے سپرد کیا گیا ہے اُس کو وہ کس حد تک سرانجام دے رہا ہے۔ہے پس اگر ہماری عورتوں کو اس طرح تعلیم نہیں دی جاتی کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے فرائض کو صحیح طریق پر سر انجام دے سکیں تو ان کی یہ بات ٹھیک ہے کہ انہیں چاردیواری میں قید کر دیا گیا ہے۔کیونکہ ان کی تعلیم کے لئے کوئی موقع ہی پیدا نہیں کیا جاتا۔یہی چھوٹی سی بات دیکھ لو آپ کی مسجد میں پانچویں یا چھٹے حصہ کے برابر عورتوں کی گنجائش ہے۔حالانکہ عورتیں مردوں سے نصف ہیں اور پھر بچے بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔تین چار سال کا بچہ تو ضرور اپنی ماں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔پس ان کے لئے جگہ مردوں سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہونی چاہیے۔مگر آپ نے ان کے لئے اتنی جگہ رکھی ہے کہ اگر باری باری عورتیں آئیں تو آٹھویں دسویں دفعہ ایک عورت آسکتی ہے۔پھر تعلیم وہ کہاں حاصل کر سکتی ہیں اور دینی کی واقفیت انہیں کس طرح ہو سکتی ہے۔ابھی ہمیں ایسی سہولتیں میسر نہیں کہ ہم ہر جگہ قرآن کریم کا درس جاری کر سکیں جیسا کہ قادیان میں ہوا کرتا تھا اور جیسا کہ ربوہ میں انشاء اللہ ہو جائے گا۔لیکن اگر ہم اس بات پر قادر نہیں کہ ہر جگہ ایسا انتظام کر سکیں تو کم سے کم جمعہ کا ایک خطبہ تو عورت کو سننے کا موقع دینا چاہیے۔اگر تم کسی کو دو وقت کا کھانا اور ناشتہ نہیں دے سکتے تو تمہیں کم از کم چوبیس گھنٹہ میں ایک روٹی تو ہے دینی چاہیے۔اگر عورتوں کو روزانہ دین سکھانے کا ابھی تمہارے پاس کوئی ذریعہ نہیں تو کم سے کم یہ تو کرو کہ ہفتہ کا ایک خطبہ انہیں سنے کا موقع دو۔مگر وہ خطبہ کس طرح سن سکتی ہیں اور کونسا ذریعہ ہے جس سے کام لے کر وہ یہاں آ سکتی ہیں۔میں تو سمجھتا ہوں عورتوں کے لئے جو جگہ ہے وہ مردوں کی جگہ کا شاید دسواں حصہ ہوگا۔گرمیوں میں میں نے سنا ہے کہ بعض عورتیں بے ہوشی کے قریب پہنچ جاتی ہیں اور بعض