خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 173

$1950 173 خطبات محمود اور قربانی کا سوال ہے مرد کی قربانی بھی کچھ کم نہیں۔اور عورت کی قربانی بھی کچھ کم نہیں دونوں یکساں ہیں۔میں ساڑھے تین مہینے بیمار رہ کر چار پائی پر پڑا رہا ہوں۔میں خبر نہیں کیا کچھ قربانی کرنے کے لئے تیار ہوجاتا اگر اس قربانی کے نتیجہ میں مجھے باہر نکلنے کا موقع مل جاتا۔پس عورت کی قربانی معمولی نہیں۔جو شخص اسے کم سمجھتا ہے وہ بھی بیوقوف ہے اور جو عورت مرد کی قربانی کو کم سمجھتی ہے وہ بھی بیوقوف ہے۔دونوں کے لئے خدا تعالیٰ نے یکساں قربانی رکھی ہے اور دونوں قربانیاں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں۔پیسے کو دیکھ لوکس طرح وہ اسی لالچ اور حرص میں ایک چھوٹی سی دکان میں اپنا سارا دن گزار دیتا ہے اور ی ادھر اُدھر چلنے کا نام تک نہیں لیتا۔عورت کے چلنے پھرنے کے لئے تو پھر بھی پندرہ بیس فٹ کا صحن ہوتا ہے مگر وہ پانچ فٹ کے چبوترہ پر ہی بیٹھا رہتا ہے اور ذرا بھی ادھر ادھر نہیں جاتا اس لئے کہ کہیں پیسے یا دھیلے کا سودا نہ رہ جائے۔پس اس رنگ کی قربانیاں مرد بھی کرتے ہیں صرف عورتوں سے ہی مخصوص نہیں۔پھر کیا یہ قید گھر کی چاردیواری میں بیٹھے رہنے سے کچھ کم ہے کہ ایک سپاہی دھوپ کی حالت میں سڑک پر کھڑا ہاتھ دے رہا ہوتا ہے۔کبھی اس طرف اشارہ کرتا ہے اور کبھی اُس طرف۔دھوپ پڑ رہی ہے، پسینہ بہ رہا ہے مگر وہ اسی حالت میں برابر چاروں طرف دیکھتا ہے اور کبھی اس گاڑی کو کھڑا کرتا ہے اور کبھی اس گاڑی کو۔عورت کو اُس مقام پر کھڑا کرو تو دو گھنٹہ میں ہی اُسے سمجھ آ جائے کہ مرد بھی قربانی کر رہے ہیں۔در حقیقت خدا تعالیٰ نے مرد اور عورت کے الگ الگ کام اور الگ الگ قربانیاں مقرر کی ہیں مگر یہ تبھی مفید ثابت ہو سکتی ہیں جب اپنے فرائض کو صحیح طور پر سمجھا جائے۔عورت گھر میں بیٹھے اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرے۔اگر وہ گھر میں تو رہتی ہے مگر بچوں کی تربیت کا کام نہیں کرتی تو وہ محض قید میں اپنے دن گزارتی ہے۔اسی طرح اگر مرد باہر پھرتا ہے مگر وہ اپنے بیوی بچوں کے لئے صحیح طور پر کمائی نہیں کرتا تو وہ صرف آوارہ گردی کر رہا ہے۔ہم مانتے ہیں کہ عورت گھر میں قید ہوتی ہے مگر اُسی وقت جب وہ بچوں کی تربیت سے غافل ہوتی ہے۔اگر غافل نہیں تو وہ قید نہیں بلکہ وہ کام کر رہی ہے۔فوج کا سپاہی جو محاذ جنگ پر جاتا ہے وہ بعض دفعہ میلوں میں مارچ کرتا چلا جاتا ہے اور ڈاکٹر چوبیس گھنٹے ہسپتال کے ایک کمرے میں جاگ رہا اور کام کر رہا ہوتا ہے۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سپاہی تو کام کر رہا ہے مگر ڈاکٹر کا کوئی کام نہیں۔بلکہ دنیا اس ڈاکٹر کے کام کو زیادہ وقعت دیتی ہے کیونکہ اُس کا ایک جگہ بیٹھا رہنا اور رات دن کام میں مشغول رہنا زیادہ قربانی ہوتی ہے۔پھر باہر کا آدمی بھی بعض دفعہ ایسے کام پر مقرر ہوتا