خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 170

$1950 170 خطبات محمود ہے تو انہوں نے کہا کیا معقول آمد ہے۔بیشک ملا زمت کرلو۔یہی نظریہ پہلے عام طور پر مسلمانوں کا تھا اور جب آپس کی مخالفت دور ہوگی تو پھر پیدا ہو جائے گا۔عیسائی ہو، ہندو ہو، سکھ ہوا اگر اس کا گزارہ اچھا ہوگا اور تین چار ہزار یا پانچ ہزار آمد ہوگی تو مسلمان کہے گا کہ اس کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کر دینے میں کیا حرج ہے۔بلکہ ماں باپ کی رضا مندی سے پہلے ہی لڑکی کہہ دے گی کہ میں نے تو فلاں جگہ شادی کر لی ہے۔اور جب وہ سنیں گے کہ لڑکے کی چار پانچ ہزار روپے ماہوار آمد ہے تو گو ظاہر میں وہ یہی کہیں گے کہ تم نے بُرا کام کیا مگر دل میں خوش ہوں گے کہ چلو جو کچھ ہو گیا اچھا ہو گیا۔مگر ایک احمدی ایسا نہیں کر سکتا۔لیکن بعض احمدی بھی ایسی غلطیاں کرتے ہیں کہ وہ اپنی لڑکیوں کو ایسی تعلیمیں دلواتے ہیں جس کے بعد ان کے لئے رشتے ملنے مشکل ہو جاتے ہیں۔حالانکہ جب ملازمت والی تعلیم کی ضرورت صرف مردوں کے لئے ہے اور عورتوں کی اصل ذمہ داری اولاد کی صحیح تربیت کرنا ہے تو ان کی تعلیم صرف اس رنگ میں ہونی چاہیے کہ کچھ دینی تعلیم ہو اور کچھ دنیوی تعلیم ہو تا کہ اپنی اولاد کو وہ اسلام کی خدمت کے لئے تیار کر سکیں۔ہم جو ایک آدمی کو پانچ گنتے ہیں تو اس لحاظ سے کہ ایک وہ خود ہوتا ہے ایک اس کی بیوی ہوتی ہے اور تین اسکے بچے ہوتے م ہیں۔مگر ایک کو پانچ ہم اُسی وقت گن سکتے ہیں جب اسکے تین چار بچے ہمارے ہو جائیں۔لیکن جب ماں صحیح تعلیم حاصل نہیں کرتی اور اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرتی تو وہ تین ہمارے نہیں ہو سکتے ہ بہر حال کسی اور کے ہوں گے۔اتفاقی طور پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بچے کی اپنے باپ سے زیادہ محبت ہوتی ہے اور وہ اسے اپنے ساتھ جمعہ میں بھی لاتا ہے، درس میں بھی لاتا ہے، تقاریر میں بھی لاتا ہے، وعظ و نصیحت کی مجالس میں بھی لاتا ہے اور اس طرح وہ دین کا خادم بن جاتا ہے۔چنانچہ کئی لوگ ایسے ہیں جن کی بیویاں سلسلہ کی سخت مخالف تھیں مگر ان کے بچے بڑے مخلص ہیں مگر یہ ایک اتفاقی حادثہ نے اور اتفاقی حادثہ کو ہم قانون نہیں کہہ سکتے۔قانون وہی ہوتا ہے جس کے ماتحت ہم وقت سے پہلے اندازہ کی لگا سکیں کہ یہ نتیجہ ظاہر ہوگا۔جس شخص کی بیوی مخالف ہے ہم دس سال پہلے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کا لڑکا بڑا مخلص ہو گا۔لیکن جس شخص کی بیوی مخلص ہے ہم دس سال پہلے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کا لڑکا بھی مخلص ہوگا کیونکہ ماں دین کی واقف ہے۔پس عورتوں کا دین کی تعلیم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے اور کم سے کم تعلیم جو کسی عورت کو