خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 157

$1950 157 خطبات محمود اب یہ جو تعداد بڑھانے کا سوال ہے یہ تبلیغ سے تعلق رکھتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے بیرونی مشنوں کی یہ حالت ہے کہ ہم انہیں با قاعدہ خرچ بھی نہیں دے سکتے۔ابھی دو تین تاریں مجھے ربوہ سے آچکی ہیں کہ وہ ریز رو فنڈ جو قرآن کریم کی اشاعت کے لئے قائم ہے اس میں سے خرچ کرنے کی اجازت دی جائے۔میں نے انہیں جواب دے دیا ہے کہ مشن بے شک بند کر دیں کیونکہ اس کی جماعت پر ذمہ داری ہے مگر میں یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ریز روفنڈ جو قرآن کریم کے لئے محفوظ ہے اُسے خرچ کر دیا جائے۔باقی اس ملک کی تبلیغ ہے دینی نقطہ نگاہ سے تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ نئے لوگ داخل ہوں گے تو ہماری مدد کریں گے۔لیکن دنیوی نقطۂ نگاہ سے انسان خیال کر سکتا ہے کہ جماعت بڑھے گی تو بوجھ اٹھانے والے بھی پیدا ہو جائیں گے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ تبلیغ کی طرف بھی بہت کم توجہ ہے۔یہاں میں آیا ہوں تو میں نے بعض میں تبلیغ کا جوش بھی دیکھا ہے اور ان کے اندر یہ خواہش بھی محسوس کی ہے کہ وہ غیر لوگوں کو میرے پاس لائیں اور انہیں احمدیت سے روشناس کریں۔مگر مجھ پر اثر یہ ہے کہ جیسے کوئٹہ کی جماعت میں تبلیغ کا جوش تھا اور جس طرح وہ لوگوں کو میری ملاقات کے لئے بار بار لاتے تھے اتنا جوش یہاں کی جماعت میں نہیں۔اللہ تعالیٰ جب کسی جماعت کو بچن لیتا ہے تو اُسے دین کی خدمت کی بھی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ہمیں کوئٹہ کا کوئی خیال تک نہیں تھا مگر چونکہ میری صحت خراب رہتی ہے اور گرمیوں میں مجھے کسی سرد مقام پر ضرور جانا پڑتا ہے پاکستان میں آنے کے بعد جب ہمیں کوئی اور جگہ نظر نہ آئی تو ہم کوئٹہ چلے گئے۔لیکن وہ ہمارا جانا درحقیقت خدائی منشاء کے مطابق تھا۔کیونکہ قادیان سے نکلنے کے بعد ایسی حالت تھی جیسے ایک درخت کی جڑ اکھیڑ دی جاتی ہے اور اس کا کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔لیکن کوئٹہ جاتے ہی ہم کو یوں معلوم ہوا جیسے خدا نے ہم کو ایک دوسرا وطن دے دیا ہے۔وہاں کی جماعت نے جس اخلاص اور محبت کے ساتھ ہمارے ساتھ معاملہ کیا وہ ایسا تھا کہ ہمارے اندر قدرتی طور پر جو بے وطنی کا احساس پایا جاتا تھا وہ ان کے ملنے کے بعد جاتا رہا۔میں وہاں تین تین مہینے کے قریب رہا ہوں۔بعض لوگ ایسے تھے جنہوں نے تین تین مہینے اس میں صرف کر دیے کہ وہ متواتر لوگوں سے مل رہے ہیں، انہیں تبلیغ کر رہے ہیں اور پھر مجھ سے بھی ملوا ر ہے ہم ہیں۔جہاں تک کھانے پینے کا سوال ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ لوگوں نے جو مہمانی کی ہے وہ اُن سے زیادہ ہے۔وہ صرف تین دن کی مہمانی کیا کرتے تھے اور آپ نے ہمارے تمام عرصہ قیام کی مہمانی