خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 85

$ 1949 85 خطبات محمود کہ تم اس کے محتاج ہو۔اس نقطہ نگاہ کو سمجھ کر انسان حقیقی تو کل کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔دولت تو ایک نسبتی امر ہے اور اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ جتنا زیادہ روپیہ کسی کے پاس ہو گا اُتنی ہی اس کی ضرورت بڑھ جائے گی۔اور اگر ایسا نہیں تو پھر وہ دولت اس کے کس کام کی۔یہ بات تو ایسی ہے جیسے کھانا ہے۔اگر معدہ میں کوئی خرابی ہو تو فورائے ہو کر کھانا باہر آ جاتا ہے اور بجائے فائدہ اور طاقت دینے کے نقصان اور کمزوری کا موجب بن جاتا ہے۔غرض ہر چیز جو ہمارے پاس ہے وہ سب خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہے۔اور جب وہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے واپس مانگنے پر اسے دے دینے میں ہچکچاہٹ ہی کیوں ہو۔جیسے تم بچے کو کوئی چیز دے کر واپس مانگتے ہو تو وہ گھبرا جاتا ہے اور واپس دینے کو اُس کا دل نہیں چاہتا۔تھوڑے دن ہوئے میری ایک پوتی آکر میرے پاس بیٹھ گئی۔اُس وقت ہم ناشتہ کر رہے تھے۔میری ایک بیوی نے اس کے آگے دو چار بادام اور دو چار کشمش۔دانے رکھ دیئے۔میں نے اُسے ایک کیلا دیا۔اُس نے وہ کیلا ہاتھ میں پکڑ لیا۔وہ چھوٹی عمر کی ہے کوئی ڈیڑھ سال کی ہوگی۔وہ ایک دانہ پکڑتی اور منہ میں ڈال لیتی۔کھاتے کھاتے وہ ایک دوسرے بچے کو جو پاس ہی کھڑا تھا کہنے لگی کہ یہ کیلا چھیل دو۔اس پر میں نے کہا کہ لاؤ میں کیلا چھیل دوں۔اس نے یہ سمجھا کہ یہ کیلا چھیننا چاہتے ہیں۔وہ جھکی اور ایک ہی دفعہ کشمش کے سب دانے ہاتھ میں لے کر منہ میں ڈال لیے حالانکہ اس سے پہلے وہ ایک ایک دانہ پکڑ کر کھا رہی تھی اور پھر پیٹھ پھیر کر بے تحاشا بھاگ گئی۔“ اس پر ایک بچہ ہنس پڑا جس پر حضور نے فرمایا ایک چھوٹا بچہ اس لطیفہ پر ہنس پڑا ہے حالانکہ ہو سکتا ہے کہ اس کا باپ بھی جب اس سے خدا تعالی کوئی چیز مانگتا ہو تو وہ بچوں کی طرح ایس ایس کر دیتا ہو اور کہتا ہو میں نہیں دیتا۔غرض اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہر چیز دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اس میں سے کچھ میری راہ میں ہے خرچ کرو۔جب دینے والا ایک چیز واپس مانگتا ہے تو انسان نہیں نہیں کرتا ہے حالانکہ وہ نادان کی یہ نہیں جانتا کہ اگر میں یہ چیز واپس دے دوں گا تو ہو سکتا ہے کہ جس نے یہ چیز دی ہے وہ اس جتنی دوبارہ دے دے بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ دے دے۔اور اس کے بعد پھر اگلے جہان