خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 56

* 1949 56 خطبات محمود نظر نہیں آیا کرتی تھی۔قادیان میں جلسہ ہوتا تھا تو گو اُس وقت بھی چندے میں کمی رہتی تھی مگر بہر حال وہ اتنی نہیں ہوتی تھی جتنی اس وقت ہے۔اُس وقت سینتالیس اڑتالیس ہزار کے قریب چندہ ہو جاتا تھا اور ساٹھ ہزار کے قریب خرچ ہوتا تھا۔مگر اس دفعہ جب کہ رہائش کے لیے ہم نے ی مکانات بھی بنانے ہیں اور اخراجات پہلے سے بڑھ گئے ہیں بجائے اس کے کہ سینتالیس اڑتالیس ہزار روپیہ آتا اس وقت تک صرف ساڑھے اٹھارہ ہزار روپیہ چندہ آیا ہے۔میں جماعتوں کو اس کی امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں یہ سستی اور غفلت جلد سے جلد دور کرنی چاہیے۔اور چونکہ لا ہور کی جماعت میرے سامنے بیٹھی ہے قدرتی طور پر میں سب سے پہلے لاہور کی جماعت کو مخاطب کرتا ہے ہوں۔قادیان میں بھی جب میں خطبہ پڑھا کرتا تھا تو چونکہ قادیان کی جماعت ہی میرے سامنے ہوتی اس لیے سب سے پہلے میں اُس کو مخاطب کیا کرتا تھا اور وہ اس پر چڑا نہیں کرتی تھی بلکہ خوش ہوتی تھی کہ اُسے دوسروں سے پہلے دین کی خدمت میں حصہ لینے کا موقع مل رہا ہے۔مگر یہاں آکر مجھے یہ ایک نیا تجربہ ہوا ہے۔سارے لوگوں کے متعلق نہیں بلکہ بعض لوگوں کے متعلق کہ اگر انہیں اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ بُرا مناتے ہیں۔مگر بہر حال میرے لیے مجبوری۔جولوگ میرے سامنے بیٹھے ہوں گے وہی میرے پہلے مخاطب ہوں گے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میرے سامنے تو تم بیٹھے ہو اور میری پہلی مخاطب کوئی اور جماعت ہو۔پس سب سے پہلے میں لاہور کی جماعت کو اور پھر باقی جماعتوں کو اس فرض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اگر تمام جماعتیں اپنے اس فرض کو ادا کریں تو یقیناً اس چندے کی ادائیگی انہیں کوئی بوجھ محسوس نہیں ہوگی۔حقیقتا اگر ساری جماعت کی ماہوار آمدن تیرہ لاکھ ہی فرض کی جائے ( گوجیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ اندازہ بالکل غلط تھا ) تب بھی ایک لاکھ پینتیس ہزار روپیہ آنا چاہیے تھا۔اور اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ جماعت میں کچھ کمزور بھی ہوتے ہیں جو پورا چندہ نہیں دے سکتے ہیں اور صرف پانچ فیصدی کے حساب سے چندے کا اندازہ لگایا جائے تو اس حساب سے بھی پینسٹھ ہزار روپیہ آنا چاہیے تھا مگر آیا صرف ساڑھے اٹھارہ ہزار روپیہ ہے جو ایک نہایت کی افسوس ناک امر ہے۔ہمارا جلسہ ہر سال ہوتا ہے اور اس جلسہ کی غرض یہ ہے کہ جماعت کے اس کی بابت وضاحت ملاحظہ ہوصفحہ 55 حاشیہ