خطبات محمود (جلد 30) — Page 42
$1949 42 خطبات محمود میں ربوہ میں مقرر کیا گیا ہے۔مجھے بہت سے دوستوں کے خطوط ملے ہیں کہ ربوہ میں ان دنوں جلسہ کرنا بہت مشکل بات ہے اور یہ کہ جلسہ سالانہ کی تاریخیں یا تو بدل دی جائیں اور یا پھر جلسہ ربوہ میں نہ کیا جائے بلکہ لاہور میں کیا جائے۔یہ خطوط جماعت کے کارکنوں کی طرف سے بھی ملے ہیں اور بیرونی جماعتوں کی طرف سے بھی ملے ہیں۔خصوصاً زمیندار جماعتوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان دنوں چونکہ کٹائی کا وقت ہو گا اس لیے زمینداروں کا جلسہ میں شامل ہونا مشکل ہو گا۔میں ان لوگوں کی مشکلات کو بھی سمجھتا ہوں جنہوں نے جلسہ سالانہ کے دنوں میں وہاں آنا ہے لیکن جب کوئی شخص سمندر میں گودتا ہے یا کوئی جہاز غرق ہوتا ہے اور اُس کی سواریاں سمندر میں گر جاتی ہیں تو آخر انہیں ساحل کی تلاش کرنی ہی پڑتی ہے۔اس ساحل کی جستجو میں خطرات بھی ہوتے ہیں اور اس کی جستجو میں خوف بھی لاحق ہوتے ہیں۔جب کوئی جہاز ڈوبتا ہے تو چاروں طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے اور انسان نہیں جانتا کہ میں دائیں گیا تو مجھے خشکی ملے گی یا بائیں گیا تو مجھے خشکی ملے گی۔سامنے کی طرف گیا تو مجھے خشکی ملے گی یا پیچھے کی طرف گیا تو مجھے خشکی ملے گی۔یہ بھی انسان نہیں ہے جانتا کہ اگر خشکی مجھ سے بہت دور ہے اور میں کسی طرح بھی ساحل تک نہیں پہنچ سکتا تو اگر دائیں طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی یا بائیں طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی گی۔آگے کی طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی یا پیچھے کی طرف تیرا تو مجھے کوئی جہاز یا کشتی مل جائے گی۔ان آٹھوں باتوں میں سے اُسے کوئی بات بھی معلوم نہیں ہوتی مگر پھر بھی وہ ایک جگہ پر کھڑا نہیں رہتا۔بظاہر اُس کا ایک جگہ پر کھڑا رہنا یا ان چاروں جہات میں سے کسی ایک کا خشکی پر پہنچنے یا جہاز اورکشتی حاصل کرنے کے لیے اختیار کرنا برا برمعلوم ہوتا ہے مگر باوجود اس کے کہ یہ سب باتیں برابر معلوم ہوتی ہیں انسان پھر بھی جد و جہد کرتا ہے اور ساحل یا کشتی کی تلاش میں دائیں بائیں یا آگے پیچھے ضرور جاتا ہے۔اسی طرح ہمیں بھی ساحل یا جہاز کے لیے جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے مقدر ہے جستجو اور تلاش کی ضرورت ہے اور جلد سے جلد کسی ایسے طریق کار کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے اندر ایک استقلال اور پائیداری رکھتا ہو۔اس وقت تک جو کچھ خدا تعالیٰ کی مشیت ظاہر ہوئی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ ربوہ ہی وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ ہماری جماعت دوبارہ اپنا مرکز بنائے۔اور جب کوئی نئی جگہ