خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 39

$ 1949 39 خطبات محمود وہاں اس سے ہوشیار رہنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور مومنوں کو ہر وقت چوکس اور ہوشیار رہنا چاہیے۔مثلاً جسم پر ایک معمولی سی پھنسی نکل آتی ہے تو ایک ایسا شخص جو کسی حد تک طب جانتا۔سے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے اور آخر کینسر (CANCER) تک اُس کا شبہ جا پڑتا ہے۔اس پر وہ ڈاکٹر کے پاس چلا جاتا ہے اور وہ اُسے اصل حقیقت بتا دیتا ہے جس سے اُس کی تشفی ہو جاتی ہے۔لیکن اگر وہ معمولی پھنسی نہ ہو اور وہ علاج سے غافل رہے تو یہ پھنسی بڑھتے بڑھتے ایک لا علاج رنگ اختیار کر لیتی ہے۔پس جب بھی ایسا شبہ پیدا ہو تو فورا علاج کرنا چاہیے کیونکہ یہ مرض قبض کے مشابہہ ہوتا ہے جو ایک طبعی چیز ہوتی ہے اور انسان اُسے طبعی سمجھ کر اس کے علاج سے غافل ہو جاتا ہے۔ایک احمدی ڈاکٹر نے جو آجکل فوج میں کرنل ہیں مجھے بتایا کہ جب میں کالج میں پڑھتا تھا اُس وقت مجھے ذراسی بھی بیماری کے مشابہہ علامات ملتیں تو مجھے وہم سا پڑ جاتا کہ مجھے فلاں مرض ہو گئی ہے۔میں نے ایک دن اپنے پروفیسر ڈاکٹر سدر لینڈ سے جا کر کہا کہ جب کسی بیماری کے مشابہ کچھ علامات ملتی ہیں تو مجھے اُس بیماری کا وہم پڑتا ہے۔اس پر وہ پروفیسر ہنس پڑا اور اُس نے کی کہا آدمی طب پڑھنے کی وجہ سے ایسا ہی وہم ہوا کرتا ہے۔ہم بھی جب پڑھتے تھے تو ہمیں بھی اپنے متعلق اسی قسم کے وہم پیدا ہوا کرتے تھے۔دراصل تجربہ اور چیز ہے اور کتابی علم اور چیز ہے۔مثلاً سل ہے۔نزلہ سل میں بھی ہوتا ہے اور عام بخار میں بھی ہو جاتا ہے۔اب جسر طب پڑھی ہو وہ نزلہ کا مریض دیکھ کر فوراً کہہ دے گا کہ اُسے سل ہو گئی ہے حالانکہ سل کے لیے اور بھی بہت سی علامات ہیں مگر ناتجربہ کاری کی وجہ سے وہ ان میں فرق نہیں کرتا۔ایک من مشابہت کی وجہ سے رسل کا قیاس کر لیتا ہے۔لیکن بہر حال وہم کا ہو جانا زیادہ اچھا ہے یہ نسبت اس کے کہ وہ اس سے غافل ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بعض بچوں کی صحت عموماً ماؤں ہے کے وہم کی وجہ سے ٹھیک رہتی ہے۔اُسے ذرا بھی کوئی تکلیف ہو تو ماں اُسے انتہائی سمجھ لیتی ہے اور ی اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اُس کا توجہ سے علاج کرواتی ہے اور بچہ بیماری کے مزمن ہو جانے۔بچ جاتا ہے۔لیکن بعض مائیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں بچے کی بیماری کا اُس وقت علم ہوتا ہے جب و مزمن شکل اختیار کر لیتی ہے اور علاج مشکل ہو جاتا ہے۔غرض ماں کا وہم بھی بچہ کی صحت کے لیے وہ