خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 428

خطبات محمود 428 * 1949 ایک عورت تھی وہ غریب تھی۔اُس کی بھا وجہ امیر تھی۔لوگ بیاہ شادیوں پر نیو تا دیتے ہیں اور عورتیں ایک دوسری سے پوچھا کرتی ہیں بہن! تم نے کیا نیو تا دیا ہے؟ کوئی شادی کا موقع تھا۔عورتوں نے اُس سے پوچھا بہن! تم نے کیا نیو تا دیا ہے؟ وہ غریب تھی اُس نے ایک روپیہ نیو تا دیا تھا۔سے کہتے ہوئے شرم آئی کہ اس نے ایک روپیہ نیو تا دیا ہے۔اس نے جواب دیا میں اور میری بھابی نے 21 روپے دیئے ہیں۔اس سے یہ مثل مشہور ہے میں اور بھابی اگی (اکیس)۔یہی حال ہمارا ہے۔انسان قربانی کرتا ہے۔اگر چہ وہ قربانی نہایت حقیر ہوتی ہے مگر خدا تعالیٰ اُس قربانی کو اپنے خزانہ سے زیادہ کر دیتا ہے۔اس کو ملا کر دیکھا جائے تو وہ نہایت عظیم الشان چیز بن جاتی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی قربانی کی۔اسے ان عظیم الشان نتائج سے کوئی نسبت نہیں تھی جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیے۔باقی خدا تعالیٰ نے حصہ ڈالا۔دونوں مل کر وہی مثال بن گئی میں اور بھا بھی اتی (اکیس)۔دنیا کے عاشق و معشوق اور خدا تعالیٰ اور اُس کے عاشق میں بہت فرق ہوتا ہے۔دنیوی معشوق کم قربانی کرتے ہیں عاشق زیادہ قربانی کرتا ہے۔لیکن روحانی عشق کا دستور الگ ہے۔یہاں عاشق کم اور معشوق زیادہ قربانی کرتا ہے۔عاشق قربانی کرتا ہے اور اپنا زور ختم کر دیتا ہے لیکن معشوق اُس کے برتن میں نگاہ ڈالتا ہے اور اُسے بھر دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ میرے عاشق نے جو کچھ وہ دے سکتا تھا دیا باقی ہم دیتے ہیں۔یاد رکھو! اگر تم برکات چاہتے ہو، اگر تم دین و دنیا کی ترقیاں چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کے لیے اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اپنے نظریہ کو بدل ڈالو۔اپنی تعداد کو بھول جاؤ ، اپنی قوت و طاقت کو بھول جاؤ ، اپنی نظریں ایثار و قربانی اور اس کے مقابل میں فضل الہی پر رکھو۔تم اپنا تھی نقطہ نگاہ تبدیل کر دو۔اگر تمہارے حالات بدل جائیں گے تو زمین تمہارے لیے اُگائے گی ، آسمان تمہارے لیے بارش برسائے گا۔اور اگر تم سودا کرتے ہو تو اگر تم دس روپے دو گے تو اس کے مقابل ہے میں دس روپے کی قیمت کی چیز ہی ملے گی۔اگر تم دنیا کے طور پر خیال کرنے لگ جاؤ کہ فلاں نکل گیا تو کیا ہوا اور فلاں آ گیا تو کیا ہوا؟ روپیہ خرچ کیا تو کیا نفع ہوا اور نہ کیا تو کیا نقصان ہوا؟ تو تمہیں اُتنا ہی ملے گا جتنی تم قیمت ادا کرو گے۔تمہارا بارہ لاکھ کا بجٹ ہے اس کے بدلہ میں تمہیں