خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 373

$1949 373 خطبات محمود ایمان والے کے دل میں ہم زیادہ ایمان پیدا نہیں کر سکتے تم سب کچھ کہہ سکتے ہو اور ٹھیک طور پر اور جائز طور پر کہہ سکتے ہو۔تم ان جوابوں سے اپنے آپ کو بری بھی قرار دے سکتے ہو جبکہ ایک اور چیز بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتادی ہے اور ایک اور علاج بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة ال والسلام نے تجویز فرما دیا ہے جس میں تمہارے لیے نہ مجبوری ہے نہ معذوری۔بلکہ وہ ایسا کام ہے جسے تم ہر وقت کر سکتے ہو۔تو اگر تم اُس پر عمل نہیں کرتے تو تمہارا وہ جواب جو تمہاری معذوری اور مجبوری پر مشتمل تھا بالکل غلط ہو جاتا ہے اور ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہوتے ہیں بلکہ نوے فیصدی حق بجانب ہوں گے یہ سمجھنے میں کہ تم نے کوشش نہیں کی۔اگر تم میں کوشش کرنے کی ہمت ہوتی ، اگر تم میں اس قربانی کی طاقت ہوتی تو کم سے کم تم یہ کر سکتے تھے کہ چھ مہینے کے بعد خط ہی لکھ دیتے کہ فلاں فلاں نے اتنے مہینوں سے چندہ نہیں دیا، انہیں جماعت سے خارج کر دیا جائے۔اگر تم نے چھ مہینے کے بعد بھی خط نہیں لکھا تو ہم یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ تم نے محنت نہیں کی۔تم نے کوشش اور صحیح جد و جہد نہیں کی۔جو شخص ایک سیر اُٹھانے کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ اگر یہ دعوی کرے کہ میں نے ایک من بوجھ اُٹھایا ہے تو وہ جھوٹ بولنے والا سمجھا جائے گا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ سیر تو نہ اُٹھا سکے اور من بھر بوجھ اُٹھا لے۔جو شخص چھ مہینے میں ایک خط بھی نہیں لکھ سکتا وہ چھ مہینہ میں ہر ہفتے دوسرے لوگوں کے گھروں پر کس طرح جاسکتا ہے؟ اسے کوئی عظمند ماننے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔بہرحال یہ ایک ذمہ داری ہے جس کی طرف جماعت کے کارکنوں کو میں توجہ دلا تا ہوں اور ساتھ ہی دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔اب ہماری جدو جہد بہت زیادہ وسیع ہو چکی ہے اور ہمیں باہر کی جماعتوں کی قربانیاں شرمندہ کر رہی ہیں۔ابھی دوستوں نے اخبار میں پڑھا ہوگا کہ گولڈ کوسٹ کے احمدیوں نے پچھلے سال ایک لاکھ روپیہ چندہ دیا۔یہ کتنی بڑی قربانی ہے جو اس جماعت نے پیش کی۔اس کے علاوہ کل ہی خبر آئی ہے کہ جماعت کے دوست یہ کہتے ہیں کہ چونکہ آپ نے یہاں ایک ہائی اسکول قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اس لیے ہماری جماعت نے اپنے اوپر یہ فرض قرار دے لیا ہے کہ وہ لازمی چندوں کے علاوہ اسکول کے لیے بھی چندہ اکٹھا کرے گی اور اپنے خرچ پر اسکول جاری کرے گی۔یہ اُس جماعت کی قربانی کا نمونہ ہے جس کے گل چندہ دہندہ ہے ایک ہزار آدمی ہیں۔وہ حبشی ہیں اور درختوں کی جڑیں کھا کھا کر گزارہ کرتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں ہم نے کی