خطبات محمود (جلد 30) — Page 361
$1949 361 خطبات محمود کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ دوسروں سے ہمدردی کا سلوک کریں۔قادیان میں بھی یہ مرض پیدا ہو گئی تھی۔لیکن کئی تدبیروں سے اس کا ایک حد تک ازالہ کیا گیا تھا خصوصا وہ جنازے جو باہر سے آتے تھے ان میں بہت کم لوگ شامل ہوتے تھے۔آخر جب تک میری صحت نے برداشت کیا میں نے خود جنازہ کے ساتھ جانا شروع کیا اور ہر محلہ کے ذمہ یہ بات ڈال دی گئی کہ ہفتہ میں فلاں فلاں دن فلاں فلاں محلہ جنازہ کی خدمات ادا کرے گا۔اس کی وجہ سے وہ نقص بہت کم ہو گیا تھا۔لیکن اب بیرونی جماعتوں میں اس مرض کی شکایت آنی شروع ہوئی ہے اور اس کی طبعی وجہ بھی موجود ہے۔عام طور پر لوگوں میں قومی ازدواج کا رواج ہے اور قومیں اور خاندان بالعموم اکٹھے رہتے ہیں اس لیے وہ بڑی سہولت کے ساتھ ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں شریک ہو سکتے ہیں۔لیکن ہماری جماعت نہ تو قومی جماعت ہے اور نہ شہری اور نہ ہی کسی محدود علاقہ کی جماعت ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی کسی خاص مشیت کے ماتحت جس کا راز وہی جانتا ہے اس کا بیج متفرق جگہوں پر پھیلا رہا ہے۔بڑے بڑے شہروں میں ہے سوائے چند شہروں کے جماعت اکٹھی نہیں رہتی۔یہی حال دوسرے علاقوں میں ہے۔اس وجہ سے سوائے اتوار یا جمعہ کے جماعت کے افراد کا کسی خاص موقع پر اکٹھے ہو جانا بہت مشکل ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ عادت پڑ جانے کی وجہ سے ان کی توجہ ان امور کی طرف نہیں رہتی۔یہی حال نمازوں کا ہے۔خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ ہر مسلمان اگر وہ تندرست ہے تو پانچ وقت نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں آئے لیکن اول تو کئی جگہوں پر ہماری مسجد ہی نہیں صرف دودو، چار چار احمدی افراد ہیں جنہیں علیحدہ مسجد بنانے کی توفیق نہیں ملی۔یا اگر علیحدہ مسجد بنانے کی توفیق ہے تو انہیں زمین نہیں ملتی۔میں سمجھتا ہوں کہ دیہاتی جماعتوں کو چھوڑ کر شہری جماعتوں میں اب بھی پچاس فیصدی ہے کے قریب ایسی جگہیں ہیں جہاں مسجدیں نہیں۔پھر شہروں میں بھی جماعت ایک جگہ پر اکٹھی نہیں ہوتی۔مثلاً کراچی ہی جہاں سے یہ رپورٹ آئی ہے دس میل لمبا شہر ہے اور دس میل لمبے شہر میں کوئی ای احمدیہ مسجد نہیں تھی۔اب جماعت نے ایک مسجد کی تعمیر شروع کی تھی لیکن بعض کارکنوں کی غفلت کی وجہ سے وہ بننے سے پہلے نرخ گئی اور اس کی تعمیر رک گئی اور ابھی تک مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی کہ ان نقائص کو دور کیا جا چکا ہے یا نہیں۔اگر وہ مسجد بن جائے تو اس میں جمعہ کے دن تو لوگ دور دور سے آسکتے ہیں سیکن پانچ وقت کی روزانہ نمازیں پانچ پانچ میں سے آکر مسجد میں نہیں پڑھی جاسکتیں۔بلکہ ایک دو میل