خطبات محمود (جلد 30) — Page 326
* 1949 326 خطبات محمود امتحان لیتا ہے اور اس میں بعض دفعہ ہم اُس وقت فیل ہو جاتے ہیں جب امتحان کے پرچوں کا ہمارے حق میں فیصلہ ہونے والا ہوتا ہے۔پیشتر اس کے کہ ہم اپنا پر چہ ختم کرتے اور وہ ہمیں پاس کرتا ہم مایوس ہو کر امتحان کے کمرہ سے باہر نکل جاتے ہیں اور اپنی کامیابی کو نا کامی میں بدل لیتے ہیں۔پس مت سمجھو کہ عزم کوئی معمولی چیز ہے تم میں سے جو اس ارادہ کو اپنے اندر پیدا کرتا ہے میں اسے کہتا ہوں۔یہ نسخہ بھی آزما ہو اور وہ شخص جو طاقت تو رکھتا ہے مگر پھر بھاگنے کا خیال اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے میں اسے کہتا ہوں ٹھہر اور صبر کر۔تیرے لیے خدا تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کھلنے والا ہے۔بسا اوقات خدا خود چل کر آرہا ہوتا ہے اور دروازہ کی کنڈی کھول رہا ہوتا ہے کہ تو منہ پھیر کر چلا جاتا ہے اور اس طرح خدا تعالی کی رحمت سے ہمیشہ کے لیے دور چلا جاتا ہے اور ساری۔۔۔۔ہزاروں نہیں لاکھوں دلائل سے ہم ثابت کر سکتے ہیں۔آدم سے لے کر اب تک ایک ایک بات ہو چکی ہے لیکن اس مادی دنیا کے اثر کے نیچے ہزاروں ہزار بلکہ اربوں ارب ایسے لوگ ہیں جو اس رستہ پر چلنے سے گھبراتے ہیں۔کاش ! وہ اپنے گردو پیش کو نہ دیکھیں بلکہ پیچھے کی طرف دیکھیں۔وہ اُس دنیا کی طرف دیکھیں جو پیچھے گزر چکی ہے اس دنیا کی طرف نہ دیکھیں جس کی اصلاح اور درستی کے لیے وہ کھڑے کیے گئے ہیں۔کیا ہی بدقسمت وہ انسان ہے کہ جس کی اصلاح کے لیے اسے بھیجا جائے اُسی کے مرض میں وہ خود بھی گرفتار ہو جائے۔کتنا بد قسمت وہ سپاہی ہے جو چور کو پکڑنے کے لیے بھیجا جائے اور خود اس کے ساتھ مل کر چوری کرنے لگ جائے۔جو شخص اس وقت مادیات میں مبتلا ہوتا ہے وہ اس مادی اثر کے نتیجہ میں ہوتا ہے جو اس وقت دنیا میں پایا جاتا ہے۔لیکن اس مادی اثر کو مٹانے کے لیے ہی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا گیا تھا۔پھر ہم سے زیادہ بدنصیب اور کون ہوگا کہ خدا نے تو ہمیں اس لیے با کہ ہم دین کے چوروں اور باغیوں کو پکڑ کر اُس کے سامنے لائیں اور ہم ان۔۔۔اور ترقی کو دیکھ کر خود بھی انہیں چوروں اور باغیوں میں شامل ہو جائیں۔پس اپنے اندر عزم پیدا کرو اور سوچو کہ تمہیں بھیجا کیوں گیا ہے؟ ہمیں انہی چیزوں کو دیکھنے اصل مسودہ میں یہاں الفاظ پڑھے نہیں جاتے۔اصل مسودہ میں یہ لفظ واضح نہیں ہے۔اصل مسودہ میں یہ الفاظ واضح نہیں ہیں۔