خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 245

$1949 245 خطبات محمود تا ڈھیلی نہ رہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت آرام کرنے کے لیے ایک جگہ پر قیام پذیر ہوئے۔قیدیوں کی جگہ آپ کی آرام گاہ کے بالکل قریب تھی۔رسیوں کے سخت بندھے ہونے کی وجہ سے حضرت عباس کے کراہنے کی آواز آنے لگ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ادھر کروٹ لیتے ہے تھے کبھی اُدھر۔آپ کو نیند نہیں آتی تھی۔صحابہ کے اندر یہ بات پائی جاتی تھی کہ وہ آپ کی ہر حرکت کو ی دیکھتے رہتے تھے۔پہریداروں نے جب دیکھا کہ آپ کو نیند نہیں آرہی تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے۔انہوں نے خیال کیا کہ آپ کو چونکہ حضرت عباس کے کراہنے کی آواز آرہی ہے ہے اور ان سے آپ کو محبت ہے اس لیے دُکھ اور تکلیف کی وجہ سے آپ کو نیند نہیں آتی۔چنانچہ انہوں نے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیں جس کی وجہ سے ان کے کراہنے کی آواز بند ہوگئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ دیر کے لیے نیند آ گئی۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دیر کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وہم پیدا ہوا کہ تکلیف برداشت نہ کر کے حضرت عباس کہیں فوت ہی نہ ہو گئے ہوں یا بیہوش نہ ہو گئے ہوں۔چنانچہ آپ نے پہریداروں کو بلایا اور دریافت کی فرمایا کہ حضرت عباس کی آواز کیوں نہیں آتی؟ انہوں نے بتایا يَا رَسُوْلَ اللہ ! ہم نے دیکھا کہ آپ کی کو نیند نہیں آرہی۔ہم نے خیال کیا کہ یہ صرف حضرت عباس کے کراہنے کی وجہ سے ہے اس لیے ہم نے ان کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں جس کی وجہ سے ان کے کرانے کی آواز بند ہوگئی ہے۔آپ نے فرمایا ہے عباس سے بیشک مجھے محبت ہے لیکن دوسرے قیدی بھی تو کسی نہ کسی کو پیارے ہیں۔یا تو تم عباس کی رسیاں بھی باندھ دو اور یا پھر دوسروں کی رسیاں بھی ڈھیلی کر دو۔اس پر صحابہ نے دوسرے قیدیوں کی رسیوں کو بھی ڈھیلا کر دیا۔4 یہ قربانی تھی جو آپ نے کی۔حضرت عباس کے ساتھ آپ کو محبت تھی ، وہ آپ کے چاتھے اور محسن بھی تھے اس لیے دوسروں کی نسبت آپ ان کی زیادہ حمایت کرتے تھے لیکن جہاں محبت کے تعلقات تھے وہاں آپ نے برداشت نہ کیا کہ حضرت عباس کی رسیاں کھول دی جائیں اور دوسرے قیدی تکلیف کی وجہ سے کراہتے رہیں۔حضرت خدیجہ نے بھی آپ کے ساتھ حسن سلوک کیا تھا۔اس کا آپ پر اتنا گہرا اثر تھا کہ آپ حضرت خدیجہ کا بڑی کثرت سے ذکر فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہ پر طبعا یہ بات گراں گزرتی۔آپ فرماتی ہیں میں نے تنگ آکر ایک دن کہا یا رسول اللہ ! آپ بھی کیا کرتے ہیں۔