خطبات محمود (جلد 30) — Page 242
$ 1949 242 خطبات محمود سے پرے ہٹا کر لے گئی 2ے۔اب یہ چیز بھی قربانی ہی کہلائے گی لیکن اس میں احسان کا بدلہ اتارنے کا پہلو زیادہ پایا جاتا ہے۔اس شخص نے والدین کی خاطر جو فعل کیا وہ اس احسان کی قدر کی وجہ سے تھا جو والدین نے اس پر کیا تھا۔اس قدر کی وجہ سے ہی اس نے ساری رات جاگتے ہوئے کائی اپنے بیوی کی بچوں کو بھوکا رکھا اور جب تک والدین کو دودھ نہ پلا لیا اپنے بیوی بچوں کو نہ پلایا۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قربانی نہیں تھی مگر اس کے خالصہ اللہ ہونے میں دوسروں کو شبہ ہوسکتا ہے۔اسی طرح اور بہت سے واقعات پائے جاتے ہیں جن میں وہ لوگ جن پر کسی کا احسان ہوتا ہے اُس شخص کی خاطر اپنی جانیں تک قربان کر دیتے ہیں۔مغلوں کی تاریخ کا واقعہ ہے کہ ہمایوں کا وزیر جب شکست کھا کر بھاگا جارہا تھا تو سندھ میں اُسے پٹھانوں نے گھیر لیا اور سمجھ لیا کہ وہی ہمایوں کا وزیر ہے۔ان کے ساتھ ایک خادم بھی تھا۔اس نے حملہ آوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وزیر میں ہوں وہ نہیں اور وزیر کہہ رہا تھا کہ وزیر میں ہوں وہ نہیں۔آخر اس خادم نے اتنے زور اور اصرار کے ساتھ اپنے آپ کو بطور وزیر پیش کیا کہ حملہ آوروں کو یقین ہو گیا کہ یہ غلام ہی اصل وزیر ہے۔چنانچہ انہوں نے اسے قید کر لیا اور پھانسی دے دی۔اب یہ بھی ایک قربانی تھی۔لیکن یہ قربانی خالصہ اللہ نہیں تھی۔ایک محسن کے لیے تھی۔بالکل ممکن تھا وہ غلام دہر یہ ہوتا تب بھی وہ اپنے محسن کے لیے جان قربان کر دیتا۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قوم کی خاطر اس کے رُعب اور وقار کو قائم رکھنے کے لیے اپنی جانوں اور مالوں کی پروا نہیں کرتے اور ہر ملک میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔جاپانی لوگ کوئی خدا پرست نہیں تھے۔وہ مشرک اور دہر یہ تھے۔مگر گزشتہ جنگ میں جو قربانیاں انہوں نے کی ہیں ان کے واقعات پڑھ کر حیرت آتی ہے۔جہاز سے گرائے ہوئے بم کے خطا جانے کا امکان ہوسکتا ہے مگر جنگ میں بعض مواقع ایسے بھی آجاتے ہیں کہ دو منٹ کا بھی وقفہ پڑ جائے تو دشمن غالب آجاتا ہے۔یسے وقت پر اگر ہاتھ سے بم پھینکا جائے یا جہاز سے گرایا جائے تو ممکن ہے وہ نشانہ پر نہ بیٹھے۔لیکن لائف بم کا خطا ہو جانا ممکن نہیں۔جاپانی لوگ ایسے مواقع پر ہم اپنے سینوں پر باندھ لیتے اور مقابل پارٹی کے مورچوں اور حفاظت کی جگہوں پر گو دکر گر جاتے تو خود تباہ ہو جاتے لیکن دشمن کی پوزیشن کو نقصان پہنچا دیتے۔غرض ملک اور قوم کی خاطر انہوں نے قربانی کی اور ایسی کی جس کے واقعات پڑھ کر