خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 14

$1949 14 خطبات محمود کپڑا کسی سونگھنے والے گتے کو سونگھا دیا جاتا ہے۔اس پر وہ گتا یہ محسوس نہیں کرتا کہ اُس نے کپڑا یا کوئی جوتی سونگھی ہے بلکہ وہ کو اُس کے لیے ایک زنجیر بن جاتی ہے جس کے ساتھ ساتھ وہ بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور وہ چور جہاں ہوتا ہے اُسے پکڑ لیتا ہے۔اس طرح جو شخص روحانی طور پر اسلام کو سونگھتا ہے وہ ایک ایسی زنجیر کو پالیتا ہے یا ایک ایسے راستہ کو پالیتا ہے جو اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ یہ وسلم تک لے جاتا ہے۔وہ سمجھ لیتا ہے کہ دراصل یہ سب قوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی آئی ہے۔اس لیے وہ اپنی دشمنی کو موجودہ مسلمانوں سے آگے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بڑھا لیتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اسلام میں ایک ایسی تار ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک چلی گئی ہے۔باقی مذاہب میں وہ یہ تار نہیں دیکھتا۔وہ مسیحیت کو بُرا کہہ لے گا، عیسائیوں کو بُرا کہہ لے گا مگر مسیح علیہ السلام کو بُرا نہیں کہے گا کیونکہ وہاں کوئی ایسا رشتہ موجود نہیں جس سے مسیحیت یا کسی عیسائی کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام بھی سُونگھے جاسکیں۔وہ ایک پنڈت کو بُرا کہہ لے گا، وہ بسا اوقات اس سے ناراض بھی ہو جائے گا لیکن وہ کرشن علیہ السلام سے ناراض نہیں ہوگا کیونکہ اُس کی پنڈت اور کرشن علیہ السلام کے درمیان کوئی ایسا رشتہ نہیں جس سے کرشن علیہ السلام سُونگھے جائیں۔مگر اسلام میں ساری برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔جو شخص اسلام کو سونگھتا ہے وہ اُس تار کو پالیتا ہے جو اُسے آج سے تیرہ سو سال قبل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جاتی ہے۔اُس کا ناک اُس کی رہبری کرتے کرتے اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ تک پہنچا دیتا ہے اور وہ آپ کا دشمن ہو جاتا ہے۔پس ہمیں یہ دیکھ کر کہ دشمن ہماری قوت اور طاقت کو محسوس کر کے جھلا اُٹھا ہے خوش ہونا چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔میں نے جماعت کو بار بار اس طرف توجہ دلائی ہے لیکن افسوس کہ جماعت نے اس طرف بہت کم توجہ کی ہے۔اگر جماعت اس امر کی طرف توجہ کرتی تو یقیناً اس کی تعداد اتنی بڑھ جاتی کہ کوئی شخص دشمنی کی جرات بھی نہ کر سکتا۔یہ کمی اسی لیے پیدا ہو گئی ہے کہ ہماری طرف سے سستی اور غفلت برتی جا رہی ہے۔شیر سے ہر کوئی ڈرتا ہے لیکن چڑیا گھر والے شیر سے کوئی بھی نہیں ڈرتا کیونکہ اُس کے اردگرد دیوار بنی ہوئی ہوتی ہے یا سلاخیں لگی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ ہمیں اُس سے محفوظ کر لیتی ہیں۔اسی طرح مومن بے شک شیر ہے مگر جب وہ اپنے اردگرد غفلت کی سلاخیں لگا لیتا ہے، جب وہ