خطبات محمود (جلد 30) — Page 219
$ 1949 219 خطبات محمود یہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ بکروں کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں تو لے جانے دو ہماری طرف سے تو قربانی ہوگئی۔اسی وجہ سے بعض مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ حج کے موقع پر جب وہاں لاکھوں کی تعداد میں اکٹھے ہوتے ہیں تو جو قربانیاں کی جاتی ہیں اُن کا کیا فائدہ؟ ویسے تو حج پر غرباء بھی جاتے ہی ہیں لیکن حج کے لیے حکم تو یہی ہے کہ صاحب استطاعت لوگ جائیں اور ہر ایک شخص یہ کوشش کرتا ہے ہے کہ وہ قربانی کرے لیکن اتنا گوشت کھائے گا کون؟ پھر وہاں صرف بکروں اور دُنبوں کی ہی قربانی ہے نہیں دی جاتی بلکہ بعض لوگ اونٹ بھی ذبح کرتے ہیں۔حج کے موقع پر گائے کی قربانی بہت کم ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر چہ ایک دفعہ اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی لیکن اس کا رواج بہت کم ہے۔اونٹ کی قربانی لوگ عام کرتے ہیں اور اونٹ کا گوشت سینکڑوں آدمیوں کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔آریوں کی طرف سے بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے ہے کہ حج کے موقع پر گوشت ضائع کیا جاتا ہے اور ایسے موقع پر کیا جاتا ہے جب لاکھوں کی تعداد میں وہاں مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے یہ کام ہوتا ہے۔اب بظاہر یہ بات کی بے فائدہ اور بے مقصد معلوم ہوتی ہے لیکن اسلام نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے۔در حقیقت دنیا میں ہزاروں کام ایسے ہوتے ہیں جو قوم کو اس لیے کرنے پڑتے ہیں کہ ان کا لیڈر کہتا ہے کہ تم ایسا کرو۔وہ موقع ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی پوچھے تم نے مجھے یہ حکم کیوں دیا اور میں ایسا کیوں کروں؟ کیونکہ زندہ قومیں جانتی ہیں کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانیاں کرنا ہی اصل چیز ی ہے اور یہ ان کے زندہ ہونے کی علامت ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اطہر ہمیشہ کے لیے مبارک تھا اُس کے لیے کوئی خاص وقت برکت کا نہ تھا۔جس وقت سے خدا تعالیٰ نے آب کو نبی قرار دیا تھا اُسی وقت سے آپ کا جسم مبارک تھا۔پھر صحابہ کے سامنے آپ ایک دفعہ نہیں آئے کم از کم پانچوں وقت نماز کے لیے آپ باہر تشریف لاتے تھے اور آپ کو نماز کے لیے وضو کرنا ہی پڑتا تھا لیکن صحابہ یہ نہیں کرتے تھے کہ آپ کے وضو کا پانی اُٹھا اٹھا کر لے جائیں۔لیکن صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ وضو کرنے لگے تو صحابہ آئے اور پانی کا ایک ایک قطرہ جو گرا انہوں نے اٹھا کر اپنے منہ اور دوسرے اعضاء پر لیا۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ شاید ہی کوئی قطرہ نیچے گرا ہو۔صحابہ پانی لینے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس طرح لڑتے تھے کہ