خطبات محمود (جلد 30) — Page 217
$ 1949 217 خطبات محمود تک گندم کی آمد کو پہنچایا جائے جو قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے تو موجودہ دنیا اگر 48 گنا اور بڑھ جائے تب بھی اس کا گزارہ ہو سکتا ہے اور اس کے لیے کئی ہزار سال کا عرصہ درکار ہے۔غرض خوراک کے لحاظ سے بھی دنیا موجودہ دور میں ہزاروں سال تک چل سکتی ہے۔پس اَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ والی حدیث کے معنے قرب قیامت کے کرنے درست نہیں۔باقی رہا خدا تعالیٰ کا فعل سو وہ اگر مارنا چاہتا تو حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ایسا کر سکتا تھا بلکہ اگر وہ اس دنیا کو پیدا ہی نہ کرتا ہے تو کیا تھا؟ پس خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی قربانیوں اور ذمہ داریوں کا زمانہ کی قیامت تک ممتد ہے اور ان کا کوئی دوسرا نبی اور اس کی قوم مقابلہ نہیں کر سکتی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کی قربانیاں اور ذمہ داریاں نہ صرف سب سے زیادہ ہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کی اور آپ کی امت کی قربانیوں اور ذمہ داریوں کی نوعیت کو بھی بدل دیا ہے۔گویا نہ صرف زمانہ کو نا معلوم حد تک لمبا کر دیا گیا ہے بلکہ قربانیوں کی نوعیت کو بھی بدل دیا ہے۔اسی مالی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے رسول! تُو لوگوں سے کہہ دے کہ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب خدا تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے۔اس آیت میں گو مخاطب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن دوسرے لوگ بھی مخاطب ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ اس کے مخاطب صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہو سکتے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے اے میرے رسول! تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ تمہاری نجات اسی بات میں ہے کہ تم میرے کامل تقبع بنو۔ایک مشہور آیت یہ ہے کہ قل إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُكُمُ الله 3 یعنی اے میرے رسول ! تو ان کی سے کہہ دے کہ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تو تم میرے پیچھے چلو اور میرے اعمال کی نقل کرو خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔پس قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کی آیت جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے ویسے ہی دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے کیونکہ انہیں آپ کی مکمل اتباع کا حکم ہے۔