خطبات محمود (جلد 30) — Page 195
* 1949 195 خطبات محمود ہوتا اپنے پیر اور متبوع کے ماتحت ہی ہے اور وہ ان کا فرمانبردار ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کی نافرمانی کرے گا تو خدا تعالیٰ اسے اپنی درگاہ سے باہر نکال دے گا لیکن خدا تعالیٰ اس سے بھی براہ راست محبت کے تعلقات رکھتا ہے۔یہی وہ مقام ہوتا ہے جو قبولیت دعا کو یقینی بنادیتا ہے۔ہماری جماعت نے خدا تعالیٰ کے جو نشانات دیکھے ہیں اور جو سامان قبولیت دعا کے سے میسر ہیں وہ دوسروں کو نصیب نہیں۔ایک احمدی جس نے سلسلہ کے لٹریچر کا معمولی مطالعہ بھی کیا ہو وہ قبولیت دعا کے متعلق وہ کچھ جانتا ہے جو دوسرے مسلمانوں میں سے ایک بڑا صوفی بھی نہیں جانتا۔پس خدا تعالیٰ نے ہمیں سامان بہم پہنچا دیئے ہیں مگر ان سے فائدہ اُٹھانا ہر شخص کا اپنا کام ہے۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ رمضان کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں ، احمدیت کی ترقی کے لیے دعائیں کریں، اپنے روحانی درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کریں، سلسلہ کا کام کرنے والوں کے لیے دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ ان کے اندر نیکی اور تقوی پیدا کرے اور جو غفلت اور سستی ان کے اندر پائی جاتی ہے وہ دُور کرے۔پھر ہمیں یہ بھی دعائیں کرنی چاہیں کہ خدا تعالی ہے لوگوں کے دلوں کو کھولے اور وہ احمدیت کو قبول کریں۔غرض ہمیں ان تمام امور کے لیے دعائیں کرنی چاہیں جن کے ساتھ ہماری جماعت کی ترقی وابستہ ہے تا کہ جب یہ دن گزر جائیں تو ہمارا مقام پہلے سے زیادہ بلند ہو۔(الفضل 11 اپریل 1957 ء )