خطبات محمود (جلد 30) — Page 3
$ 1949 3 خطبات محمود ایسے لوگ منافق ہوتے ہیں۔کوئی رنج ایسا نہیں جس کے بعد خوشی نہ آئے اور نہ کوئی خوشی ایسی خوشی ہے جس کے بعد کوئی رنج نہ آئے۔نہ کبھی تم یہ سمجھ سکتے ہو کہ تمہاری بلائیں ہمیشہ کے لیے بلائیں ہی رہیں گی اور نہ کبھی تم یہ سمجھ سکتے ہو کہ تمہاری خوشیاں ہمیشہ کے لیے چلی جائیں گی اور تمہیں کوئی دکھ اور تکلیف نہیں ہو گی۔یہ دنیا جدوجہد کی دنیا ہے، یہ دنیا سعی کی عمل کی دنیا ہے۔جب تک ہم اس دنیا میں زندہ ہیں خواہ ہم آسمان کے ستارے ہی کیوں نہ بن جائیں اور خواہ ہم عالم صغیر کی بجائے عالم کبیر ہی کیوں نہ بن جائیں مختلف اوقات میں رنج و راحت کے ادوار ہمارے ساتھ چلتے چلے جائیں گے۔اگر ہمارے لیے راحت مقدر ہے تب بھی وہ راحت، رنج و مصیبت کے دوروں میں سے گزرتی ہوئی چلی جائے گی۔رنج کے دور ضرور آئیں گے اور خوشی کے دور بھی ضرور آئیں گے۔مگر فرق صرف اتنا ہو گا کہ اگر ہمارے لیے راحت مقدر ہوگی تو وہ رنج و مصیبت کے دور سے اوپر ہوگی اور اگر ہمارے لیے رنج اور مصیبت مقدر ہوگی تو رنج اور مصیبت کا دور ہماری راحت کے دور سے نیچے ہو گا۔مثلاً اگر ہمارے لیے موت مقدر ہو اور ہمارے سینکڑوں آدمی مر جائیں تو اُس کے بعد ہم پر ایسا دور بھی ضرور آئے گا جب ہزاروں نئے آدمی جماعت میں داخل ہوں گے۔اور پھر اگر ہم پر ایسا دور آجاتا ہے جس میں ہمارے ہزاروں آدمی مر جاتے ہیں تو اس کے بعد ہم پر ایسا دور بھی ضرور آئے گا جس میں لاکھوں آدمی ہماری جماعت میں داخل ہوں گے۔غرض اگر ہمارے لیے راحت اور زندگی مقدر ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد ہم پر رنج اور موت کا دور نہیں آئے گا۔رنج اور موت کا دور ضرور آئے گا مگر اس کے بعد جو راحت اور زندگی کا دور آئے گا وہ ہمارے لیے اُس رنج اور موت کے دور سے بہت زیادہ کامیابی کا دور ہوگا۔اسی طرح ہمارے مقابلہ میں زید اور بکر پر بھی راحت اور زندگی کا دور آتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس راحت اور زندگی کے دور کے بعد اُن پر جو رنج اور موت کا دور آئے گا وہ زیادہ سخت ہوگا۔اگر اس کے بعد پھر اُن پر راحت اور زندگی کا دور آئے گا تو اُس کے بعد آنے والا رنج اور موت کا دور اُن کی کے لیے اور زیادہ سخت ہو گا۔حتی کہ اُن کا انجام تباہی ہوگا۔ورنہ دنیا میں نہ کوئی آدمی ایسا پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہو گا جس نے صرف غم ہی غم دیکھا ہو یا جس نے صرف راحت ہی راحت دیکھی ہو۔اور نہ ایسی قوم پیدا ہوئی ہے اور نہ ہوگی جس نے صرف غم ہی غم دیکھا ہو یا صرف خوشی ہی خوشی