خطبات محمود (جلد 30) — Page 108
* 1949 108 خطبات محمود پیدا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ تیری اولاد میں سے ایک ایسا کرے گا جو ایک بے آب و گیاہ وادی میں آبادی کے سامان پیدا کرے گا۔پہلے تو ہم اس کی قیاسی کی تشریح کرتے تھے لیکن اب خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ عملی طور پر اس کی تشریح کر دی اور مجھے سماعیل قرار دیتے ہوئے فرمایا جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا یعنی جہاں میرا پاؤں پڑا خدا تعالیٰ نے وہاں پانی بہا دیا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ایک زبردست نشان ہے جو پورا ہوا اور بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا۔اور جیسا کہ خدائی کلام سے معلوم ہوتا ہے بہت سے اور نشانات اس نشان کے ساتھ وابستہ ہیں۔لوگ سمجھتے تھے کہ وہ احمدیت کو توڑ دیں گے۔وہ سمجھتے تھے کہ وہ احمدیت کو کچل دیں گے۔انہوں نے یہ خیال کر لیا تھا کہ یہ جماعت اپنے مرکز سے علیحدہ ہو کر ٹوٹ جائے گی لیکن یہ جماعت وہ جماعت نہیں جس کو کوئی انسان کچل سکے۔خدا تعالیٰ نے بعض اس قسم کے حیوانی کیڑے ی پیدا کیے ہیں کہ اگر انہیں کاٹ دیا جائے تو بجائے اس کے کہ وہ مر جائیں (جیسے انسان مر جاتا ہے یہ بکرے کو کاٹ دیا جائے تو وہ مر جاتا ہے، گائے، بھینس، بھیڑ ، گھوڑا وغیرہ جانوروں کو درمیان سے کاٹ دیا جائے تو وہ مر جاتے ہیں) ان کا اگر دھڑ کاٹ دیا جائے تو وہ مرتے نہیں بلکہ ان کے دھڑ کے دونوں حصے دو پورے وجود بن جاتے ہیں۔ایک آدھا حصہ ایک طرف پورا جانور بن جاتا ہے اور دوسرا آدھا حصہ دوسرا جانور بن جاتا ہے۔یہی صورت خدا تعالیٰ کے قائم کردہ ابتدائی سلسلوں کی ہوتی ہے۔قومیں جب بوڑھی ہو جاتی ہیں، جب ضعیف اور کمزور ہو جاتی ہیں اور ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ مر جاتی ہیں لیکن انبیاء کے ذریعہ ان کی ابتدا ہوتی ہے تو وہی تو میں ابتدائی کیڑوں کی طرح ہو جاتی ہیں۔ان کا دھڑ اگر درمیان سے کاٹ دیا جائے تو بجائے اس کے کہ وہ مر جائیں ان کی کے دونوں حصے الگ الگ پورا وجود بن جاتے ہیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ یہ قوم کاٹنے کی سے ہرگز نہیں مرے گی بلکہ کاٹنے سے اس کے ایک وجود کی بجائے دو وجود بن جائیں گے اور پھر سے چار وجود بن جائیں گے اور اسی طرح یہ قوم ترقی کرتی چلی جائے گی۔بہر حال خدا تعالیٰ کے اور بہت بڑے بڑے نشانات ہیں جو ہمارے اس ابتلاء سے وابستہ ہیں۔اگر تم اپنے اندر ایمان کی ہے دو