خطبات محمود (جلد 30) — Page 2
$1949 2 خطبات محمود پچھلا جمعہ نہیں پڑھا سکا تھا اس لیے میں نے خیال کیا کہ خطبہ کے لیے چلا جاؤں۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ چند منٹ کے لیے بول لینا، زیادہ نہ بولنا تا درد زیادہ نہ ہو جائے۔اس لیے میں آ گیا تا جمعہ کا خطبہ کر سکوں اور اس طرح ثواب سے محروم نہ رہوں۔میں جماعت کے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جماعتوں پر بعض دن نازک آیا کرتے ہیں اور بعض دن راحت کے آیا کرتے ہیں۔جس طرح کبھی دن لمبے ہوتے ہیں اور کبھی راتیں لمبی ہوتی ہیں، کبھی صحت کے ایام آ جاتے ہیں اور کبھی بیماری کے ایام آ جاتے ہیں اسی طرح ہمارے لیے بھی یہ دن کچھ نازک دن ہیں۔قطع نظر اس ابتلاء کے جو مشرقی پنجاب میں تمام مسلمانوں پر آیا، اور بھی بعض باتیں ہیں جن کا اظہار کرنا میں پسند نہیں کرتا۔بہر حال ہمارے لیے کچھ ابتلاء کے دن ہیں اور ان ابتلاؤں کی کنجی اور اصلاح محض اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔وہی ان کی ابتلاؤں کو دور کر سکتا ہے اور وہی اس کے بداثر سے ہمیں محفوظ رکھ سکتا ہے۔میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ ان گھبرا دینے والے دنوں کے پیچھے ہمارے لیے کچھ برکتیں بھی کھڑی ہیں اور ان کے ذریعہ سے ہماری حالت کا کامیابی کی حالت سے بدل جانا، ہماری حالت کا ترقی کی حالت سے بدل جانا تھی بہت ممکن ہے اور بہت حد تک اس کی امید کی جاتی ہے۔جیسا کہ میں احباب کو بتا چکا ہوں ہر رات کے بعد دن آتا ہے اور ہر دن کے بعد رات آتی ہے۔رات چلی جاتی ہے تو دن آ جاتا ہے، دن چلا جاتا ہے تو رات آ جاتی ہے۔جب تک رات چلی نہیں جائے گی دن آئے گا کس طرح؟ پس جس طرح مجھے وہ برکات نظر آ رہی ہیں جو ہماری موجودہ حالت کو کامیابی اور ترقی کی حالت سے بدل سکتی ہیں مجھے وہ خطرہ بھی نظر آتا ہے جو ہماری آئندہ ترقی کی ایک منزل کے درمیان واقع ہے۔ایک منزل میں نے اس لیے کہا ہے کہ ابھی ہماری جماعت کے اندر مطالعہ کی عادت بہت کم ہے۔نہ قرآن کریم کے مطالعہ کی عادت ہے، نہ احادیث کے مطالعہ کی عادت ہے اور نہ ہی احباب روحانیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ کسی بُری چیز کو دیکھتے ہیں، سنتے ہیں یا اُس کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ یوں سمجھتے ہیں کہ گویا ہم مر ہی گئے۔اور جب کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں، سنتے ہیں یا اُس کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ گویا اب ہمیں کسی قسم کا خطرہ ہی نہیں۔حالانکہ قریباً انہی الفاظ میں قرآن کریم کہتا ہے جی