خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 427

$1949 427 خطبات محمود بالکل ویران پڑے ہیں بھی آئندہ زمانہ میں آباد ہوں گے ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔میں جاپان اور فلپائن کی جن کو کوئی نہیں جانتا اصلاح کے لیے بھیجا گیا ہوں، میں اُن ملکوں کی ہدایت کے لیے بھی مامور کیا گیا ہوں جو ابھی دریافت بھی نہیں ہوئے۔ہاں آئندہ کسی زمانہ میں دریافت ہوں گے۔اس آیت کو پھیلا کر دیکھیں تو کیا انسان ہنس نہیں پڑتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کی اس دعوی کو پورا کرنے کے کونسے سامان تھے۔آپ کے پاس کونسے ہوائی جہاز تھے کہ جن کے ذریعہ آپ امریکہ جاتے ، کینیڈا جاتے ، برازیل، کولمبیا اور بولیویا جاتے۔پھر آپ کے پاس وہ کونسے ذرائع تھے کہ جن سے آپ اپنی تعلیم کو اپنے مرنے کے بعد بھی ممتد کیے جاتے۔جب تک وہ ملک دریافت نہ ہوتے آپ وہاں جاہی کیسے سکتے تھے۔لوگ بات کرتے ہیں تو وہ بات ان کے بیٹے بھول جاتے ہیں۔اور اگر ان کے بیٹے یا در کھتے ہیں تو پوتے بھول جاتے ہیں۔اور اگر پوتے یادر رکھتے ہیں تو پڑ پوتے کی بھول جاتے ہیں مگر یہ ملک تو اُس وقت دریافت بھی نہیں ہوئے تھے۔آپ کی وفات کے نوسوسال بعد امریکہ دریافت ہوا۔لیکن فرض کرو اگر اُس وقت امریکہ دریافت بھی ہوا ہوتا تو آپ کے پاس کونسی گارنٹی تھی کہ آپ کا دعوای پورا ہو جائے گا۔آپ نے وہ کونسی قربانی کی تھی جس کی وجہ سے اس دعوای نی نے پایہ تکمیل کو پہنچنا تھا۔ہمیں تو یہی نظر آتا ہے کہ لوگ اپنے بچے قربان کرتے ہیں، اپنے بھائی قربان کرتے ہیں ، اپنا امن اور عیش قربان کرتے ہیں، بعض دنیا کے لیے قربانیاں کرتے ہیں، بعض ناجائز باتوں کے لیے قربانیاں کرتے ہیں، بعض اچھی اور جائز باتوں کی خاطر بھی قربانیاں کرتے ہیں لیکن ان کے نتائج محدود ہوتے ہیں اور ان محدود نتائج کا بھی کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دعوی نرالا تھا۔ان کا بدلہ اور بھی نرالا تھا۔بھلا وہ کیا چیز تھی جس نے یہ گارنٹی دی تھی کہ آپ کا دعوای نوسو سال تک قائم رہے گا اور پورا ہوگا ؟ وہ کونسی چیز تھی جس نے یہ ذمہ لیا تھا کہ ایسے آدمی پیدا ہو جائیں گے جولوگوں کو اس طرف لائیں گے؟ آخر وہ چیز کیا تھی ؟ وہ چیز یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا تعالیٰ سے عشق تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دل میں کہا کہ میں خدا تعالیٰ کے عشق میں ہر قربانی جو میری طاقت میں ہے کرتا ہوں، میرا معشوق کیوں نتائج کی ذمہ داری نہ لے گا۔اور خدا تعالیٰ نے کہا ہاں ہاں! میں ایسا ہی کروں گا اور اس نے ایسا ہی کر دیا۔عشق کے تمام کام ایسے ہی ہوتے ہیں۔