خطبات محمود (جلد 30) — Page 33
* 1949 33 33 LO خطبات محمود قبض وبسط۔انسان کی دو طبعی حالتیں (فرمودہ 25 فروری 1949ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسانی اعمال ہمیشہ ہی گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں اور قبض و بسط انسان کا ایک خاصہ ہے۔یہی سلسلہ انسان کے لیے کبھی روحانی ترقیات کا موجب بن جاتا ہے اور کبھی روحانی تباہی کا موجب بن جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دفعہ ایک صحابی حاضر ہوئے۔وہ رو پڑے اور کہايَا رَسُولَ اللہ ! میں تو منافق ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم تو مومن ہو۔تم اپنے آپ کو منافق کیوں سمجھتے ہو؟ اس صحابی نے کہایا رَسُوْلَ اللہ ! میں جب تک آپ کی مجلس میں بیٹھا رہتا ہوں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دوزخ اور جنت میرے سامنے آگئے ہیں اور خشیت کا زور ہوتا ہے لیکن جب میں اپنے گھر جاتا ہوں وہ حالت قائم نہیں رہتی۔اس کی سے معلوم ہوتا ہے کہ میں مومن نہیں بلکہ منافق ہوں۔کیونکہ جب میں آپ کی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو میری ویسی حالت ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ اور جنت و دوزخ مجھے اپنے سامنے نظر آتے ہیں لیکن ان مجلس سے علیحدہ ہونے پر یہ حالت نہیں رہتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہی تو خالص ایمان ہے۔پھر آپ نے فرمایا اگر انسان ایک حالت پر رہے تو وہ مر نہ جائے۔1