خطبات محمود (جلد 30) — Page 397
$ 1949 397 خطبات محمود ہیں اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کی طرف سے وصولی بھی بہت کم ہوئی ہے۔مثلاً پانچویں سال کے وعدوں میں سے صرف چھیالیس یا سینتالیس فیصدی وعدے وصول ہوئے الی ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمیں نوجوانوں کے ایمان کی فکر کرنی چاہیے، اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نئی وی پو د پر وہ اعتماد نہیں کر سکتے جو پہلوں پر کیا جاسکتا تھا۔لیکن ہمارا سفر ابھی بہت لمبا ہے ، ہمارا کام بہت بڑا ہے، ہماری منزل ابھی بہت دُور ہے۔ان حالات میں ایک یا دو نسل کا سوال نہیں اسلام کی فتح تک شاید پانچ یا چھ نسلیں لگ جائیں گی کیونکہ اسلام کی کامل فتح کے یہ معنے ہیں کہ دنیا کا اکثر حصہ مسلمان ہو جائے۔اسلام کی فتح کے یہ معنے ہیں کہ دنیا کی اکثر حکومتیں مسلمان ہو جائیں۔یہ دن کتنی دور ہیں۔جس رفتار سے ہم چل رہے ہیں اس رفتار سے شاید ہمیں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے کئی ہزار سال چاہیں لیکن الہی سنت یہ ہے کہ الہی جماعتوں کی رفتار پہلے سست ہوتی ہے۔پھر البہی نشانوں کے ساتھ یکدم ترقی ہو جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے دعوی نبوت کے دس سال بعد تک آپ پر صرف اُستی یا تو ے آدمی ایمان لائے اور تیرہ سال کے بعد آپ پر ایمان لانے والے صرف اڑھائی تین سو تھے۔لیکن پھر یکدم آپ کی امت بڑھنی شروع ہوئی اور جہاں تیرہ سال میں صرف اڑھائی تین سو آدمی آپ کی امت میں شامل ہوئے تھے وہاں اگلے آٹھ سال میں سارا عرب مسلمان ہو چکا تھا۔پس گو پہلے رفتار سست تھی لیکن بعد میں رفتار ترقی تیز ہوگئی۔اسلام کے تنزل کے زمانہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لوگ رات کو مسلمان سوئیں گے اور صبح کو کافر اُٹھیں گے ، لوگ صبح کو مسلمان اُٹھیں گے اور رات کو کافر سوئیں گے۔لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ قول اُلٹ جاتا ہے۔دین کی فتح اور کامیابی کا جب وقت آتا ہے تو یہ حالت ہو جاتی ہے کہ لوگ رات کو کا فرسوتے ہیں، صبح کو اُٹھتے ہیں تو مسلمان ہوتے ہیں، صبح کو کافر اُٹھتے ہیں مگر جب رات کو کی سوتے ہیں تو مسلمان ہوتے ہیں اور دنیا تیز قدمی کے ساتھ بھاگتی دوڑتی اسلام کے جھنڈے تلے جمع کی ہو جاتی ہے۔ہم موجودہ زمانہ کی ترقی پر قیاس نہیں کر سکتے۔ہم اس الہی سنت کو دیکھتے ہیں جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کے ساتھ چلتی چلی آئی ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلے تیرہ سال والی ترقی کو مد نظر رکھا جائے تو پہلے تیرہ سال میں صرف اڑھائی تین سو آدمی ایمان لائے تھے۔اگر بعد میں