خطبات محمود (جلد 30) — Page 31
* 1949 31 خطبات محمود سے وعدہ نہیں کیا کہ اس نے آپ کے سب گناہ معاف کر دیئے ہیں؟ آپ نے فرمایا الا اكُونَ عَبْدًا شَكُورًا - 4 عائشہ! اگر خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ احسان کیا ہے تو کیا میرا فرض نہیں کہ میں اس کا اور زیادہ شکر یہ ادا کروں ؟ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باوجود اپنے عظیم الشان مرتبہ کے پھر بھی نماز پڑھتے ہیں، فرض پڑھتے ہیں، سنتیں پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی نوافل اور ذکر الہی سب جاری رکھتے ہیں تو ہمارا یہ خیال کر لینا کہ ہم ان کے بغیر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لیں گے کس طرح صحیح کی ہوسکتا ہے۔جو چیزیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے لیے ضروری ہیں وہ چیزیں اُن سے کہیں زیادہ ہمارے لیے ضروری ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل روحانیت سے معمور تھا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بلند مرتبہ حاصل تھا۔اگر آپ کو باوجود ان باتوں کے ظاہری عبادتوں کی ضرورت تھی تو ہمارے لیے تو ان کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم صرف چھلکے کو ہی کافی نہ سمجھ لیں کیونکہ کسی کام کو صرف ظاہری طور پر کر لینا اور باطن کا خیال نہ رکھنا بے فائدہ ہوتا ہے۔مثلاً نماز ہے۔نماز صرف ظاہری طور پر پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ دل بھی اس میں شامل ہو۔صرف سراٹھانا اور گرا لینا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔پس یہ ضروری ہے کہ جہاں تم ظاہر کی اصلاح کے لیے کوشش کرو وہاں باطن کے لیے بھی کی کوشش کرو۔جب تم ظاہر اور باطن دونوں کو ملاؤ گے تو پھر وہ چیز پیدا ہو گی جس سے تم محسوس کرنے لگو گے کہ تمہارے اندر کوئی نئی چیز پیدا ہو گئی ہے۔دنیا میں معمولی سے معمولی تغیر پیدا ہوتا ہے تو وہ ہمیں محسوس ہوتا ہے۔مثلاً جگر بڑھ جاتا ہے یا تلی بڑھ جاتی ہے تو انسان کہنے لگتا ہے مجھے بوجھ سا معلوم ہوتا ہے۔انسان بیٹھتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اسے بیٹھنے میں کوئی روک محسوس ہوئی ہے۔مثانہ میں پتھری پیدا ہو جاتی ہے تو پیشاب کرتے ہوئے انسان اُس کو محسوس کرتا ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جب پیدا ہو کر انسان کے اندر ایک احساس پیدا کر دیتی ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ می انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو اور پھر اُس کا احساس پیدا نہ ہو۔جب بھی کوئی چیز انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے اُس کا احساس بدل جاتا ہے۔اسی طرح جب اُس کے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے تو اُسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی نئی چیز پیدا ہو گئی ہے۔اس کا خدا تعالیٰ پر یقین بڑھتا چلا جاتا ہے۔جب وہ اس کے آثار دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ ایک نئی برکت والی