خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 390

$1949 390 خطبات محمود اصلاح پر مقرر خلیفہ ہے، صدر انجمن احمد یہ ہے، مجلس شوری ہے، ناظر ہیں اور بعض کاموں میں تحریک جدید اور تحریک جدید کی انجمن ہے اور ان کے بعد اوکل امیر اور لوکل امیر کی انجمن ہے۔میں کسی فرد کا نام نہیں لے رہا۔اگر ان سات کے سامنے کوئی شخص کوئی بات کرتا ہے تو وہ منافق نہیں۔اس لیے ی کہ یہ اصلاح پر مقرر ہیں۔لیکن ان سات کے سوا اگر وہ کسی اور کے سامنے کوئی بات کرتا ہے تو ہم اسے کی منافق کہیں گے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ منافق ہو لیکن وہ اس بات کا اہل ہے کہ اُس کا جائزہ لیا جائے کہ آیا وہ احمق ہے یا منافق ؟ پس اگر کوئی شخص خلیفہ وقت، نظام جماعت یا افراد جماعت کے خلاف ان سات قسم کے لوگوں کے سوا کسی اور کے سامنے کوئی بات کرتا ہے تو ایسے شخص کی رپورٹ میرے پاس آنی چاہیے تا کہ اگر وہ اصلاح کے قابل ہے تو اُس کی اصلاح کی جائے۔ہمارے ہاتھ میں صرف یہی ہے کہ ہم اس کا مقاطعہ کر دیں یہ نہیں کہ اُسے مار پیٹ کریں۔مار پیٹ کرنا گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔بہر حال جماعت کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کی جائے۔میں پھر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ رحم کے معنے یہ نہیں کہ باغ میں گھاس اُگا ہو اور اسے کاٹا نہ جائے۔اگر کوئی باغبان اس گھاس پر رحم کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ درخت مرجائے گا۔اگر کوئی ای نص سانپ پر رحم کرتا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ سانپ اس کے بچہ کو کاٹ لے گا۔باؤلے کتے پر اگر کوئی رحم کرتا ہے تو اچھے شہری مارے جائیں گے۔یہ رحم نہیں ظلم ہے۔رحم کی مستحق سب سے کی اول جماعت ہے۔رحم کا مستحق سب سے اول سلسلہ ہے۔رحم کا مستحق سب سے اول نظام سلسلہ ہے۔اور جو شخص ان کے خلاف باتیں کرتا ہے وہ اس قابل نہیں کہ اسے جماعت میں رہنے دیا جائے۔بعض لوگ قادیان کے ہمارے ہاتھ سے چلے جانے کی وجہ سے بھی ٹھو کر کھا گئے ہیں حالانکہ یہ ایک معجزہ ہے۔قادیان میں ہمارے آدمی اب تک موجود ہیں اور ہمارے کام وہاں با قاعدہ طور پر چل رہے ہیں۔قادیان کے علاوہ سارے مشرقی پنجاب میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی مسلمان جماعت کی اب تک موجود ہو اور وہ با قاعدہ طور پر کام کر رہی ہو۔یہ ایک معجزہ تھا لیکن بعض لوگ ٹھو کر کھا گئے ہیں۔یا بعض منافق جو قادیان میں ایک نظام کے ماتحت دبے ہوئے تھے سارے ملک میں پھیل گئے ہیں اور منافقت پھیلا رہے ہیں۔پس یہ ضروری ہے کہ ہم منافقت کا خاتمہ کریں۔منافق لوگ جماعت کو یا مجھے اس وقت تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔کیونکہ یہ ہماری ترقی کا زمانہ ہے۔اس وقت ان کی حیثیت