خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 322

* 1949 322 خطبات محمود تو اُس وقت اُس نے یہی کہا کہ یہاں تو کل سے رہنا اور خدا تعالیٰ سے روٹی مانگنا بندوں سے نہ مانگنا۔اسی نیت اور ارادہ کے ساتھ ہمیں قادیان میں بھی رہنا چاہیے تھا مگر وہ احمدیت سے پہلے کی بنی ہوئی بستی تھی اور ابھی بہت سے لوگ اس سبق سے نا آشنا تھے لیکن یہ نئی بستی جہاں ایک طرف مدینہ سے مشابہت رکھتی ہے اس لحاظ سے کہ ہم قادیان سے ہجرت کرنے کے بعد یہاں آئے وہاں دوسری طرف یہ مکہ سے بھی مشابہت رکھتی ہے کیونکہ یہ نئے سرے سے بنائی جا رہی ہے اور محض احمدیت کے ہاتھوں سے بنائی جا رہی ہے جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے مکہ معظمہ بنوایا۔وہاں بھی خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی نسل سے یہی کہا تھا کہ تم اپنی روٹی کا ذمہ دار مجھے سمجھنا کسی بندے کو نہ سمجھنا۔پھر میں تم کو دوں گا اور اس طرح دوں گا کہ دنیا کے لیے حیرت کا موجب ہو گا۔چنانچہ دیکھ لو ایسا ہی ہوا۔مکہ والے بیشک محنت مزدوری بھی کرنے لگ گئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں اگر وہ محنت و مزدوری چھوڑ دیتے تب بھی جس طرح بنی اسرائیل کے لیے خدا تعالیٰ نے ایک جنگل میں من و سلوی نازل کیا تھا اسی طرح مکہ والوں کے لیے من و سلوی اُترنے لگے کیونکہ وہاں رہنے والوں کا رزق خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا کی ہے۔اسی طرح ہم کو بھی اس جنگل میں جس جگہ کوئی آبادی نہیں تھی ، جس جگہ رزق کا کوئی سامان نہیں مانی تھا، جو مکہ کی طرح ایک وادی غیر ذی زرع تھی اور جہاں مکہ کی طرح کھاری پانی ملتا ہے اور جو اس لحاظ ایم سے بھی مکہ سے ایک مشابہت رکھتا ہے کہ مکہ کی طرح یہاں کوئی سبزہ وغیرہ نہیں اور پھر مکہ کے گرد جس طرح پہاڑیاں ہیں اسی طرح اس مقام کے اردگرد پہاڑیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ ہم ایک نئی بستی اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لیے بسائیں۔پس اس موقع پر ہمیں بھی اور یہاں کے رہنے والے سب افراد کو بھی یہ عزم کرنا چاہیے کہ انہوں نے خدا سے مانگنا ہے کسی بندے سے نہیں مانگنا۔تم اپنے دل میں ہنسو تمسخر کرو، کچھ سمجھو حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں سب سے معزز روزی وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے مانگی جائے۔وہ کوئی روزی نہیں جو انسان کو انسان سے مانگ کر ملتی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے مگر یہ اعلیٰ مقام کی بات ہے اور اعلیٰ درجہ کی روحانیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور شاید تم میں سے بہتوں کی سمجھ میں بھی نہ آئے ) کہ وہ روزی بھی اتنی اچھی نہیں جو خدا تعالیٰ سے مانگ کر ملتی ہے۔بلکہ اعلیٰ روزی وہ ہے جو خدا تعالیٰ خود دیتا ہے اور بے مانگے کے دیتا ہے۔